سلسلہ احمدیہ — Page 113
113 مسجد بیت الفتوح مورڈن لندن انگلستان میں سب سے بڑی مسجد بنانے کی تحریک حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے انگلستان میں سب سے بڑی مسجد بنانے کی تحریک کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 فروری 1995ء میں فرمایا: نگلستان میں ایک بہت بڑی مسجد کی ضرورت ہے۔یہاں اب تک جو دوسری بڑی بڑی مساجد بنائی گئی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ گلاسگو کی مسجد میں سب سے زیادہ نمازی آسکتے نہیں یعنی دو ہزار کی تعداد میں۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں زیادہ آسکتے ہیں یا ریجنٹ پارک کی مسجد میں۔مگر جو اندازہ ایک دفعہ میں نے لگوایا تھا اس سے یہی لگتا ہے کہ ریجنٹ پارک کی مسجد کے ملحقات تو بڑے ہیں مگر نمازیوں کی جگہ اتنی نہیں ہے۔اس لئے بعید نہیں کہ گلاسگو والوں کا دعویٰ درست ہو کہ انگلستان کی سب سے بڑی مسجد ہے۔جماعت احمدیہ کی تعداد تو دوسروں کے مقابل پر بہت تھوڑی ہے لیکن جماعت احمدیہ کے عبادت گزار بندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس لئے ہمیں دو ہزار کی مسجد کام نہیں دے گی۔مرکزی جو جلسے ہوتے ہیں یا مرکزی تقریبات جن میں عبادت کے لئے وسیع جگہوں کی ضرورت پڑتی ہے ان میں انگلستان کی ضرورت چھ سات ہزار تک بھی جا پہنچتی ہے۔تو میں نہیں سمجھتا کہ سر دست آپ کے اندر یہ استطاعت ہے کہ چھ سات ہزار نمازیوں کے لئے مسجد تعمیر کر سکیں۔مگر ایسی مسجد کی بنیاد ڈالنا ضروری ہے جس میں یہ سہولتیں مہیا ہوں کہ آئندہ حسب ضرورت اور حسب توفیق اس کی توسیع ہوتی چلی جائے اور مسجد کے عمومی نقشے پر برا اثر نہ پڑے۔یعنی سادگی تو اپنی جگہ درست ہے مگر بدزیبی تو خدا کو پسند نہیں ہے۔ایسے ملحقات، ایسے الحاقی اضافے جو بد صورتی پیدا کریں وہ اچھے نہیں ہیں۔اس لئے اپنی پلا ئنگ میں، اپنی منصوبہ بندی میں یہاں کی جماعت کو چاہئے کہ یہ گنجائش رکھیں کہ آئندہ دس پندرہ ہزار تک کے لئے بھی وہ مسجد بڑھائی جا سکتی ہو تو بڑھائی جائے اور پھر بھی ٹھیک لگے۔دونوں طرف سے آگے اور پیچھے متوازن بڑھنے کی جگہ بھی ہونی چاہئے اور نقشہ پہلے سے ہی بنا چاہئے مختلف stages ، منازل کا نقشہ۔