سلسلہ احمدیہ — Page 90
90 جماعت کے مرکزی شعبہ جات میں سے محترم نیشنل امیر صاحب کے دفتر کے ساتھ صرف چند بڑے شعبوں کے دفاتر قائم کئے جاسکے۔علاوہ ازیں اس کے تہ خانہ میں مسجد بنائی گئی جبکہ کچھ حصہ کو رہائشی بنا کر ایک مختصر سے مہمان خانہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔اس طرح سے جماعت کے دفاتر مسجد نور فرانکفورٹ کے دو کمروں سے نکل کر اس نسبتاً بڑی عمارت میں منتقل ہو گئے۔تاہم شعبہ پریس اور شعبہ رشتہ ناطہ مسجد نور میں ہی رہے جبکہ شعبہ امور عامہ ناصر باغ میں اور شعبہ اشاعت Hanauer Landstr۔50 Frankfurt پر واقع کرائے کی ایک عمارت میں تھا۔2002ء میں اللہ تعالی نے جماعت جرمنی کو بیت السبوح کی وسیع عمارت خریدنے کی توفیق عطا فرمائی جس کے بعد بیت المقیت کو فروخت کر دیا گیا۔بيت القيوم یہ مشن ہاؤس فرینکفرٹ کے انتہائی شمال میں 909۔Homburger Landstr پر واقع بڑے ہال اور رہائشی حصہ کے ساتھ نصف ایکڑ کے قریب زرعی زمین پر مشتمل ہے جسے 1993ء۔میں جماعت فرانکفورٹ کی ضروریات کے لئے خریدا گیا۔اس کے بغلی بالوں کی مرمت کر کے مسجد اور دفاتر میں تبدیل کیا گیا جبکہ اس کا وسیع ہال لوکل امارت کے اجلاسات کے لئے استعمال کیا جاتارہا۔اسی ہال میں باسکٹ بال کی گراؤنڈ بھی بنائی گئی۔اسی جگہ ایم ٹی اے کا ابتدائی دفتر بنا اور جماعت کی مرکزی لائبریری بھی قائم کی گئی اور بعد ازاں یہاں با قاعدہ سٹوڈیو بھی تعمیر ہوا جسے محترم مبشر باجوہ صاحب نیشنل سیکرٹری سمعی و بصری کی شہادت کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مبشر سٹوڈیو کا نام عطا فرمایا۔اس کے رہائشی حصہ میں مبلغ انچارج جرمنی محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب مرحوم کا قیام رہا جبکہ چار بیڈ رومز اور ایک بڑی بیٹھک پر مشتمل ایک گھر کو مہمان خانہ بنایا گیا۔بیت السبوح کی خرید کے بعد اس عمارت کو بطور سٹور استعمال کیا جانے لگا۔ابتدا میں جلسہ سالانہ کا سٹور رہا اس کے بعد سے اب تک شعبہ سو مساجد کا سٹور اور ورکشاپ ہے نیز دو واقفین زندگی کی