سلسلہ احمدیہ — Page 87
87 روانہ ہوئے۔ابادان نائیجیریا کا ایک بڑا شہر ہے اور یہاں پر ایک مضبوط جماعت تھی اور جماعت کی مسجد بھی موجود تھی۔اباد ان کے احمدی شہر سے باہر حضور کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔حضور سیدھے ماپو ہال تشریف لے گئے جہاں حضور نے لیکچر دینا تھا۔ایک ہزار افراد سے زائد افراد حضور کا لیکچر سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔صرف پانچ سو افراد کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔سینکڑوں افراد نے گیلریوں میں اور ہال کے باہر کھڑے ہو کر لیکچر سنا۔شرکاء میں دانشوروں ، یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان اور طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔حضور نے لیکچر کے آغاز میں فرمایا کہ میں آپ سے بیان نہیں کر سکتا کہ آج مجھے آپ سے مل کر کتنی خوشی ہو رہی ہے۔مغربی افریقہ خاص طور پر نائیجیریا میں آکر میرے ذہن میں آج سے پچاس سال قبل کی وہ یادیں تازہ ہو گئی ہیں، جب میں دس گیارہ سال کا تھا اور اس وقت جماعت احمدیہ کے پہلے مبلغ نے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا۔اس دور میں سفر کرنا بہت مشکل اور راستے بہت طویل ہوتے تھے۔ایک تنہا شخص کا یہاں آکر سکول اور مساجد بنانے کا معرکہ بہت رومانوی لگا کرتا تھا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد ہماری طرف سے بہت سے لوگ یہاں آئے اور آپ کے درمیان رہ کر کام کیا۔ہمارے روابط بڑھتے گئے ، ہم ایک دوسرے کو زیادہ سمجھنے لگے اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا۔حضور نے لیکچر کے اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا تابناک مستقبل آپ کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور آج میں جو باتیں کہوں گا وہ نوجوانوں کے دلوں پر زیادہ اثر کریں گی۔میں آپ کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ علم کا حصول کتنا ضروری ہے اور اسلام نے اس کے لئے کیا طریقہ بیان کیا ہے۔خواہ وہ قدرتی سائنس کا علم ہو یا سوشل سائنس کا علم ہو۔یا تاریخ یا ادب ہو یا جیسا کہ مجھے امید ہے ، جب آپ مذہبی سائنس کا علم حاصل کریں۔علم حاصل کرنا دنیا بھر کے نوجوانوں کا فطرتی حق ہے۔لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دراصل صداقت ہی علم ہے اور اسلام نے اس کے حصول کا ایک طریقہ بیان کیا ہے۔اور میں آپ سے یہ کہوں گا کہ خود تجربہ کر کے دیکھیں اور آزمائیں کہ علم حاصل کرنے کے لئے یہی راستہ بہترین راستہ ہے اور یہ اسلامی طریقہ دعا کا طریقہ ہے۔اب یہ بیان کروں گا کہ دعا سے کیا مراد ہے اور میں اس بات کی تلقین کیوں کر رہا ہوں کہ آپ ور تحقیق کے دوران اسے آزمائیں۔میرا نظریہ یہ ہے کہ دعا کے ذریعہ سے ہی علم کے اپنی