سلسلہ احمدیہ — Page 76
76 پندرہ سال نہیں گزرے۔اس گروہ کی اگر صحیح تربیت نہ کی گئی تو ان مقاصد کے حصول میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جرى الله فی حلل الانبیاء کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث فرمایا اور جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری تو جہ اس طرف پھیری کہ اس گروہ کی تربیت کے لیے جو طریق اختیار کرنے چاہئیں ان کا بیان ان آیات میں ہے جن کے اوپر میں خطبات دیتارہا ہوں۔اور اگر ان مقاصد و چی طور پر مجھ لیا جائے اور ان کے حصول کی کوشش کی جائے تو خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہماری یہ پود صحیح رنگ میں تربیت حاصل کر کے وہ ذمہ داریاں نباہ سکے گی جو ذمہ داریاں عنقریب ان کے کندھوں پر پڑنے والی ہیں کیونکہ میری توجہ کو اس طرف پھیرا گیا تھا کہ آئندہ بیس پچیس سال اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بڑے ہی اہم اور انقلابی ہیں اور اسلام کے غلبہ کے بڑے سامان اس زمانہ میں پیدا کئے جائیں گے اور دنیا کثرت سے اسلام میں داخل ہوگی یا اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہوگی۔اس وقت اسی کثرت کے ساتھ ان میں مربی اور معلم چاہئیں ہوں گے۔وہ معلم اور مربی جماعت کہاں سے لائے گی اگر آج اس کی فکر نہ کی گئی۔اس لیے اس کی فکر کرو اور ان مقاصد کو سامنے رکھو جو ان آیات میں بیان ہوئے ہیں۔اور ان مقاصد کے حصول کے لئے جس رنگ کی تربیت کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے کلامِ پاک کی روشنی میں اسی قسم کی تربیت اپنے نو جوانوں کو دو۔تاجب وقت آئے تو بڑی کثرت سے ان میں سے اسلام کے لیے بطور مربی اور معلم کے زندگیاں وقف کرنے والے موجود ہوں تا وہ مقصد پورا ہو جائے کہ تمام بنی نوع انسان کو علی دین واحد جمع کر دیا جائے گا۔ان خطبات کے دوران ایک بزرگ نے مجھے لکھا کہ آپ کے جو خطبات ہورہے ہیں ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام سے بھی ہے جو تذکرہ کے صفحہ ۸۰۱ ( مطبوعه ۱۹۵۶ء) پر درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: "جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت الہی کا مسئلہ سمجھتا ہے ، وہ بڑا عظمند ہے کیونکہ اس کو اسرار ملکوتی سے حصہ ہے۔( تذکرۃ ص ۱۴۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)