سلسلہ احمدیہ — Page 674
674 مڈغاسکر میں تبلیغ کا جائزہ لینے کے لئے مڈغاسکر روانہ کیا گیا۔۱۹۷۱ء میں ماریشس میں دعوۃ الامیر کا خلاصہ فرنچ میں شائع کیا گیا۔یہاں پر خدام الاحمدیہ کے ٹریننگ کیمپ اور خدام اور لجنہ کے اجلاسات کے ذریعہ بھی احباب جماعت کی تربیت کا کام جاری تھا۔(۲) ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرار داد منظور کی تو ماریشس کے جماعت مخالف عنصر نے بھی کوشش کی کہ اس نا معقولیت میں وہ پاکستان کی پیروی کریں۔چنانچہ یہاں پر جماعت کے ایک پرانے مخالف عبد الرزاق محمد صاحب تھے۔ان کے بیٹے ماریشس کی قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔انہوں نے جماعت احمدیہ کا مسئلہ زیر بحث لانے کے لئے موشن اسمبلی میں بھیج دیا۔فوری طور پر جماعت کے ایک وفد نے ملک کے وزیر اعظم Sir Sewsagar Ramgolam سے ملاقات کی اور مخالفین کے ارادوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ماریشس میں ہر مذہب سے وابستہ افراد کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔وزیر اعظم صاحب نے یوسف محمد صاحب کو طلب کیا اور انہیں کہا کہ وہ یہ موشن واپس لے لیں۔چونکہ مخالفین جماعت ایک لمبے تجربے کی بنا پر جانتے ہیں کہ اس قسم کی شرارتوں میں ان کی دال تبھی گلتی ہے جب کہ حکومت ان کے ساتھ ہو اس لئے انہوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ اپنی موشن واپس لے لیں اور یوں یہ وقتی جوش ختم ہو گیا۔(۳) خلافت ثالثہ کے دوران جب لندن میں واقعہ صلیب پر کانفرنس ہوئی تو مرکز کی ہدایت کے مطابق ماریشس کے مشن نے ماریشس کے کیتھولک چرچ کو دوستانہ تبادلہ خیالات کی دعوت دی لیکن اس چرچ نے تحریری طور پر معذرت کر لی کہ چونکہ کفارہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس لئے ہم اس پر کسی قسم کا تبادلہ خیالات کرنے کو تیار نہیں۔خلافت ثالثہ کے دوران نماز کا فرانسیسی ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔اس کے علاوہ اس مشن نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف فتح اسلام، پیکچر سیالکوٹ اور چشمہ میسی کے فرانسیسی تراجم شائع کئے گئے۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے لیکچر امن کا پیغام کا فرانسیسی ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی ہدایت کی روشنی میں جماعت احمد یہ ماریشس کو وکالت تبشیر کا یہ ارشاد موصول ہوا کہ مسیح و مہدی آگیا ہے“ کے عنوان سے ایک فولڈر تیار کیا جائے۔چنانچہ یہ