سلسلہ احمدیہ — Page 670
670 مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب نے تنزانیہ مشن کے انچارج کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔۱۹۷۸ء میں تنزانیہ میں دومشن ہاؤس تعمیر ہوئے۔نے ނ دنیا بھر میں جماعت کی یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی اسلام پر کوئی اعتراض کیا گیا ہے احمدیوں سے پہلے بڑھ کر اس کا جواب دیا ہے۔چنانچہ ۱۹۷۸ء میں جب ایک پادری HP Anglars نے ایک کتاب اولاد ابراہیم کے نام سے لکھی جس میں اسلام اور آنحضرت ﷺ پر بہت گند اچھالا گیا۔اس کے جواب میں مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب نے Mwana Mkuuwa Ibrahimu لکھ کر شائع کی۔اس کتاب کی اشاعت کا خرچ ایک غیر احمدی دوست سالم صاحب اور ایک احمدی دوست ابو بکر صاحب نے ادا کیا۔یہ کتاب بہت کثیر تعداد میں فروخت ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پادری کی لکھی ہوئی کتاب دوکانوں سے اٹھالی گئی۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کتاب عیسائی مشنریوں نے کونگو بھجوادی تھی۔تنزانیہ کے جنوب میں مکرم مولوی عبدالوہاب صاحب نے نیوالا میں نیامشن قائم کیا۔اور یہاں پر آہستہ آہستہ بیعتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ایک مسجد پہلے سے موجود تھی اور چار نئی مساجد بنائی گئیں اور چار نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔۱۹۷۹ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفہ امسح الثالث نے فرمایا : وو تنزانیہ میں ایک نئے مشن کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ایک مقامی مبلغ عیسی احمدی وہاں متعین کئے گئے ہیں۔اب وہاں تنزانیہ میں مشنوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔تین نئی مساجد اس سال تعمیر ہوئی ہیں۔“ (۱) تنزانیہ کے مختلف علاقوں میں بھی جب جماعت احمدیہ کا نفوذ شروع ہوتا تو وہاں پر نہ صرف احمدیت کی مخالفت شروع ہو جاتی بلکہ نواحمدیوں پر تشدد کا آغا ز بھی کر دیا جاتا۔اس کی ایک مثال ٹاویٹا کی جماعت کی ہے۔یہاں پر احمدیت کا پیغام خلافت ثانیہ میں ہی پہنچ گیا تھا۔یہاں کے ایک باشندے جمعہ علی صاحب نے عبد الکریم شر ما صاحب مربی سلسلہ کی وساطت سے بیعت کی۔اور ان کے ساتھ دوسرے احباب نے بھی بیعت کی۔اس کے بعد ان کے آبائی قصبہ میں ان پر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ان کو اور ان کے بچوں کو مارا پیٹا گیا۔ان کا بائیکاٹ کیا گیا۔ان کی بیویوں کو ز بر دستی