سلسلہ احمدیہ — Page 609
609 علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائی عقائد کے متعلق اتنا مواد اکٹھا کرنے کے باوجود کہ یہ عقائد مسیح کی شان کے خلاف ہیں۔۔۔۔آپ نے کفن مسیح کا کہیں نام بھی نہیں لیا۔میں فرینکفرٹ میں ہی تھا کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اس کو بالکل اہمیت نہیں دینی۔آج کل اسے بہت اہمیت دی جارہی ہے اور ہمارے بعض مضمون نگاروں نے بھی وہاں دی لیکن میری آخر میں باری تھی۔میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ جہاں تک Shroud of Turin یعنی اس کفن مسیح کا تعلق ہے جو انہوں نے ٹیورن میں رکھا ہوا ہے ہمارے نزدیک اسے کوئی اہمیت نہیں دینی چاہئے اس لئے اگر یہ محفوظ نہ رہتا اور مرور زمانہ اس کی یاد بھی انسان کے دماغ سے مٹا دیتا تب بھی ان دلائل پر جو ہمارے پاس موجود ہیں کوئی اثر نہ پڑتا۔(۴) اس کا نفرنس میں شرکت کے لئے مختلف ممالک سے بہت سے مبلغین کرام تشریف لائے ہوئے تھے۔کانفرنس کے بعد یورپ ، افریقہ اور امریکہ سے آئے ہوئے ان مبلغین کرام کی ایک کانفرنس مورخہ ۸ / جون کو منعقد ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے گیارہ بجے سے دو بجے تک ان سے خطاب فرمایا۔جلد ہی اس کانفرنس پر متوقع رد عمل سامنے آنے لگا۔اس پر حضور نے انگلستان کے احباب جماعت کے سامنے ارشاد فرمایا کہ لندن کا نفرنس نے سب سے بڑا کام یہ کیا ہے اس نے عیسائی دنیا کو غصہ دلا دیا ہے۔پہلے یہ لوگ بڑے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے اور سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی ان پر غالب نہیں آسکتا۔ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کر سکتا۔چیلنج تو ان کو ۱۹۶۷ء میں بھی دیا گیا تھا لیکن یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ خاموش رہیں تو ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔لیکن اب وہ بات نہیں رہی۔خود انگریز اپنے چرچ سے کہہ رہے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ نے تمہارا چیلنج قبول کر لیا ہے تو تم بھی ان کی دعوت قبول کر لو۔(۵) حضور نے اس دورہ کے دوران ڈنمارک ، مغربی جرمنی سویڈن اور ناروے کا دورہ فرمایا۔اس کے ساتھ مغربی افریقہ کا دورہ بھی ہونا تھا مگر بعض نامساعد حالات کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔