سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 575 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 575

575 میری پھانسی کا ذمہ دار ہے۔وہ مجھے غلط بتا تارہا۔اس نے اس کا ستیا ناس کیا ہے۔اس نے ہمیشہ سبز باغ دکھائے۔پھر کہنے لگے میری پارٹی کو مردہ بھٹو کی ضرورت تھی زندہ بھٹو کی نہیں۔(۱۳) ہم جیسا کہ ذکر کر چکے ہیں کہ بیٹی بختیار صاحب کو اور اس مقدمہ میں ان کے معاون وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب کو بھٹو صاحب کا بہت اعتماد حاصل تھا۔بیٹی بختیار صاحب نے بحیثیت اٹارنی جنرل ۱۹۷۴ء میں جب قومی اسمبلی میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث پر کئی روز سوالات کئے تھے اور وہ خود بھی اپنے اس کام کو اپنا ایک اہم کارنامہ خیال کرتے تھے۔اور اسی طرح عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب اس سٹیرنگ کمیٹی کے چیئر مین تھے جس نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے متعلق قواعد طے کئے تھے۔جب بھٹو صاحب کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی تو ضیاء حکومت نے ان کے خلاف ایک قرطاس ابیض (White Paper) شائع کیا تو انہوں نے جیل سے اس کے جواب میں ایک کتاب If I am assassinated تحریر کی۔اس میں انہوں نے ۱۹۷۴ء میں بیچی بختیار صاحب کی کارکردگی کے متعلق لکھا As Attorney General of Pakistan he rendered yeoman service to successfully piloting the sensitive Ahmadi issue in Parliament یعنی انہوں نے ( یحیی بختیار صاحب نے ) بحیثیت اٹارنی جنرل نے پارلیمنٹ میں احمدیوں کے حساس مسئلہ کے بارے میں کارروائی کے دوران اہم اور کامیاب خدمات سرانجام دیں۔خدا کی قدرت کے کچھ عرصہ بعد بھٹو صاحب انہی یحییٰ بختیار صاحب کو اپنی پھانسی کی سزا کا ذمہ دار بتارہے تھے اور کہہ رہے تھے انہوں نے اس مقدمہ کا ستیا ناس کر دیا۔جیل کے عملہ نے پھانسی کی تیاریاں شروع کیں۔زائد حفاظتی اقدامات کے علاوہ ایک زائد یہ بھی تیاری کی جارہی تھی کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ایک فوٹوگرافر کا انتظام کیا گیا۔اس کا کام کیا تھا اس کے متعلق وہاں ڈیوٹی پر متعین کرنل رفیع صاحب لکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کیا گیا ایک فوٹو گرافر جو ایک انٹیلی جنس ایجنسی سے تھا ، اپنے سامان کے ساتھ تین اپریل