سلسلہ احمدیہ — Page 559
559 امریکہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں تا کہ پاکستان کے سادہ لوح لوگوں سے حقائق کو پوشیدہ رکھا جاسکے۔بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ اس اپوزیشن نے میری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے الیکشن سے قبل بیرونی طاقت سے ۲۵ کروڑ اور الیکشن کے بعد ۵ کروڑ لئے تھے۔(۸) یہاں پر طبعاً ایک سوال اُٹھتا ہے۔اور وہ یہ کہ تین سال قبل ۱۹۷۴ء میں جب احمدیوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ان کا خون بہایا جارہا تھا، ان کی املاک نذر آتش کی جارہی تھیں، ان کا بائیکاٹ کر کے ان کا جینا دو بھر کیا جا رہا تھا اس وقت آپ نے برملا کہا تھا کہ نہ صرف آپ بلکہ دوسرے بھی یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے۔مگر آپ نے نہ قوم کو یہ بتایا کہ وہ ہاتھ کون سا تھا اور نہ ہی اس کی سازش کے رد کرنے کے لئے کوئی مؤثر قدم اٹھایا بلکہ اس کی سازش کا حصہ بن گئے اور آئین میں ترمیم کر کے احمدیوں کی مذہبی آزادی غصب کر لی۔آج قومی اسمبلی کے سامنے آپ یہ کہنے پر مجبور تھے کہ ایک بیرونی ہاتھ آپ کی حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ملک کے استحکام کے خلاف سازش کر رہا ہے اور یہ بیرونی ہاتھ دوسرے مسلمان ممالک کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔اگر بر وقت اس بیرونی ہاتھ کو روک دیا جا تا اور اسے کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا جا تا تو یہ نوبت نہ آتی۔بھٹوصاحب نے فوج کی مدد لینی چاہی کہ کسی طرح گولی چلا کر اس شورش کو ختم کیا جائے اور ملک کے تین شہروں کا نظم ونسق بھی فوج نے سنبھال مگر جلد ہی جرنیلوں کے بدلتے ہوئے تیور ان کو نظر آگئے۔کچھ عرب ممالک نے بیچ میں آکر مفاہمت کی کوشش کی مگر بے سود۔عین اس وقت جب کہ پورا ملک ایک بحران کی لپیٹ میں تھا بھٹو صاحب نے کچھ عرب ممالک کا دورہ کیا۔اپوزیشن کے قومی اتحاد نے مئی ۱۹۷۷ ء میں اپنے مطالبات پیش کئے جس میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ نئے انتخابات کے نتیجہ میں جو صوبائی اور قومی اسمبلیاں وجود میں آئی تھیں ان کو تحلیل کیا جائے۔مذاکرات کا لمبا دور شروع ہوا۔۴ / جولائی کی رات کو مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچتے لگ رہے تھے۔بہت سی تگ و دو کے بعد قومی اتحاد نے حتمی مطالبات سامنے رکھ دیئے تھے اور بھٹو صاحب نے تھکا دینے والے مذاکرات سے گزر کر آخر اس رات کو اپنے وزراء کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ اب اس مفاہمت پر دستخط کر دیں گے۔وزیر اعظم کا یہ فیصلہ سن کر اور اس پر بات کر کے ان کے کچھ وزرا ءرات