سلسلہ احمدیہ — Page 536
536 ممالک کی قیادت کرنے والے ممالک کے گروہ میں بیٹھنے کے قابل ہو جائے۔‘ (۱۸) ایما ڈنکن (Emma Duncan) اپنی کتاب Breaking The Curfew میں بھٹو صاحب کا ذکر کرتے ہوئی لکھتی ہیں غالباً احمدیوں پر ان کا حملہ بھی اس نیت سے کیا گیا تھا تاکہ وہ قدامت پسند مذہبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر سکیں۔۔۔۔۔۔مگر ۱۹۷۴ میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ بھی شاید ان حلقوں میں سستی مقبولیت حاصل کرنے کا طریق تھا جو کہ ان کو نا پسند کرتے تھے۔اس کے باجود بھٹو صاحب کی پالیسی اور اخلاقیات حملے کی زد میں رہے۔(۱۹) اس فیصلہ کے بعد پہلا جمعہ ۱۳ ستمبر کو تھا۔قدرتاً احباب جماعت حضرت خلیفہ المسح الثالث کی زبان مبارک سے یہ ہدایت سننا چاہتے تھے کہ اس فیصلہ پر احمدیوں کا کیا ردعمل ہونا چاہئے؟ حضور نے خطبہ جمعہ کے آغاز میں فرمایا کہ اس وقت تو یہ تبصرہ ہے کہ No Comments ، یعنی کوئی تبصرہ نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر تبصرہ سے قبل بڑے غور اور تدبر کی ضرورت ہے اور مشورے کی ضرورت ہے۔اس پر مشورے اور غور کرنے کے بعد میں بتاؤں گا کہ جو پاس ہوا ہے وہ اپنے اندر کتنے پہلو لئے ہوئے تھا۔کیا بات صحیح ہے کیا بات صحیح نہیں ہے۔حضور نے فرمایا کہ حقیقت کو ابھرنے دیں۔حقیقت کو Unfold ہونے دیں۔اس کے بعد حضور نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ اس فیصلہ پر کسی احمدی کے ردعمل میں ظلم اور فساد کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے۔(۲۰) اس کے بعد حضور نے مختلف خطبات اور تقاریر میں بیان فرمایا کہ اس فیصلہ پر جماعت احمدیہ کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔جب جلسہ سالانہ کا وقت آیا تو ایک عجیب سماں تھا۔حکومت نے پہلی مرتبہ فیڈرل سیکیورٹی فورس کے جوان ربوہ کے جلسہ پر بھجوائے تھے۔حضور نے افتتاحی خطاب کے آغاز میں فرمایا ”۔۔لوگوں کی طرف سے بہت سی افواہیں پھیلائی گئیں۔ایک افواہ یہ تھی کہ مستورات کا جلسہ نہیں ہوگا۔حالانکہ مستورات کا جلسہ ہو رہا ہے ہماری احمدی بہنیں کافی تعداد میں پہنچ چکی ہیں لیکن بعض علاقوں سے بہت کم مستورات اس جلسہ میں شامل ہو رہی ہیں۔ایک یہ