سلسلہ احمدیہ — Page 45
45 مال دیتا ہے تو وہ مال جو اس کی عطا ہے بشاشت سے اسی کی طرف لوٹا دینا اور اس کے بدلہ میں ثواب اور اس کی رضا حاصل کرنا اس سے زیادہ اچھا سودا دنیا میں اور کوئی نہیں۔پس اے احمدیت کے عزیز بچو! اٹھو اور اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑ جاؤ اور ان سے کہو کہ ہمیں مفت میں ثواب مل رہا ہے۔آپ ہمیں اس سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔آپ ایک اٹھنی ماہوار ہمیں دے دیں کہ ہم اس فوج میں شامل ہو جائیں۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ دلائل و براہین اور قربانی اور ایثار اور فدائیت اور صدق وصفا کے ذریعہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے گی۔(۲) ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۶ ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔اسی طرح بچوں کو مالی تحریکوں کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہئے۔اس میں شک نہیں کہ بعض خاندان اپنے بچوں کی طرف سے بھی چندہ وقف جدید یا چندہ تحریک جدید لکھواتے ہیں اور بعض خاندان ایسے بھی ہیں جو اپنے بچوں کو تحریک کرتے رہتے ہیں اور ہماری طرف سے جو جیب خرچ تمہیں ملتا ہے اس میں سے تم خدا تعالیٰ کی راہ میں بھی کچھ دیا کرو لیکن عام طور پر اس طرف ابھی توجہ نہیں کی جاتی۔میں نے اس سلسلہ میں حال ہی میں اپنے بچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وقف جدید کا بوجھ اُٹھا ئیں اور ہر بچہ کم از کم اٹھنی ماہوار وقف جدید میں دے۔چونکہ اس وقت وقف جدید کے سال کا اختتام ہے۔اس لئے میں نے سالِ رواں میں پچاس ہزار روپی لڑکوں اور لڑکیوں پر مقرر کیا ہے۔میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ پچاس ہزار روپیہ کی رقم جمع کریں تا ہم وقف جدید کے کام کو پھیلا سکیں اور اسے وسعت دے سکیں۔اگر تمام احمدی بچے جو آپ کی گودوں میں پلتے ہیں۔تمام احمدی بچے جن کی تربیت کی ذمہ داری آپ پر ہے، اس طرف متوجہ ہوں۔اگر آپ ان کی ذہنی تربیت اس رنگ میں کردیں کہ وہ کم از کم اٹھنی ماہوار خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف جدید کے کاموں کے لئے خود جماعت کو پیش کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ وقف جدید کا سارا بجٹ ان بچوں کے چندوں سے پورا ہوسکتا ہے۔لیکن اس طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے اور بچوں کے