سلسلہ احمدیہ — Page 507
507 یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعد میں جب پہلی جنگ عظیم کے دوران مہتمم دارالعلوم دیو بند محمد احمد صاحب کو یہ خبر ملی کہ مکہ میں ترکی کے حامیوں نے میٹنگ کی ہے اور انکی ملاقات انور پاشا سے ہوئی ہے اور انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ ہندوستان میں بغاوت کو اُبھارا جائے اور اس میٹنگ میں ان کے مدرسہ کے ایک استادمحمود حسن بھی موجود تھے تو مہتم دارالعلوم دیو بند نے یہ تفصیلات انگریز حکومت کو بھجوا دیں۔The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p53 بعد میں جب محمود حسن واپس ہندوستان آرہے تھے تو اس مخبری کی بنا پر شریف حسین والی مکہ نے انگریزوں کے ایماء پر انہیں گرفتار کر لیا اور انہیں انگریزوں کے حوالے کر دیا اور انگریزوں نے انہیں مالٹا بھجوا دیا۔دوسری طرف مسلم لیگ کے اکابرین کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ محمود حسن صاحب کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔وہ اس مخبری سے لاعلم تھے چنانچہ انہوں نے جنوری ۱۹۱۸ء کے اجلاس میں اس بات کا اظہار کیا کہ یہ شخص اس قسم کا آدمی نہیں ہے کہ حکومت کے خلاف کسی سرگرمی میں حصہ لے۔The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p113 اور اس جنگ میں لاکھوں ہندوستانی مسلمان سپاہی انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہو کر ان کی طرف سے لڑ رہے تھے۔اب کیا اس صورت میں ہندوستان کے مسلمان اس فوج کی شکست یا اپنے بھائیوں کے گرفتار ہونے یا ہلاک ہونے کے خواہشمند رہتے۔لیکن اس ضمن میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ایک تو یہ کہ اس جنگ میں ہندوستان کے غیر از جماعت مسلمانوں کی ہمدردیاں کس کے ساتھ تھیں اور دوسرے یہ کہ انگریزوں نے بغداد اور دوسرے عرب علاقوں پر قبضہ کن کے تعاون سے کیا تھا۔جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو تاریخ کے سرسری مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے اس جنگ میں ہندوستان کے مسلمان پوری طرح سے برطانیہ کا ساتھ دے رہے تھے۔اور ان میں سے لاکھوں نے تو فوج میں بھرتی ہو کر برطانیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ بھی لیا تھا۔اگر ہم صرف پنجاب کا ہی جائزہ لیں تو اس صوبہ کے مسلمانوں نے لاہور سمیت صوبہ کے شہروں میں بڑے بڑے جلسے