سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 503 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 503

503 بادشاہ اور گورنمنٹ کی امداد اور جان نثاری لازمی ہے۔ان مولوی صاحب نے پر جوش آواز میں اعلان کیا کہ اگر گورنمنٹ عالیہ قبول کرے تو وہ سب سے پہلے بطور والنٹیئر میدانِ جنگ میں جانے کے لئے تیار ہیں۔اور دیگر حاضرین نے بھی پر جوش الفاظ میں اپنے جان و مال گورنمنٹ کی خدمت میں شار کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔A Book of Readings on the History of the Punjab 1799-1947 by Imran Ali Malik, Published by Research Society of the Punjab 1985 p328-329 اس وقت یہ افواہیں گرم تھیں کہ شاید تر کی جرمنی کا اتحادی بن کر برطانیہ کے خلاف میدان جنگ میں کود پڑے۔اس پس منظر میں ۱۶ رستمبر ۱۹۱۴ء کو انجمن اسلامیہ پنجاب کا ایک پبلک جلسہ لاہور میں منعقد ہوا اس میں دیگر قرار دادوں کے علاوہ یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں مدبران ترکی اس جنگ میں بے تعلقی کا مسلک اختیار کئے رہیں گے۔اور ایک اور قرار دادیہ بھی منظور کی گئی کہ اگر ٹر کی خدانخواستہ اس جنگ میں دشمن کے ساتھ ہو جائے تو بھی مسلمانانِ ہند تاج 66 برطانیہ کے ساتھ اپنے مستقیم وفاشعاروں اور مستقل اطاعت گزاری پر قائم رہیں گے۔“ اور یہ دعائیہ قرار بھی منظور ہوئی کہ یہ جلسہ قادر مطلق سے دعا کرتا ہے کہ وہ ٹرکی کوسب سے بڑی سلطنتِ اسلامی زمانہ حال کے خلاف جنگ میں آنے سے باز رکھے۔“ A Book of Readings on the History of the Punjab 1799-1947 by Imran Ali Malik, Published by Research Society of the Punjab 1985 p330-331 لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کی تمام خواہشات کے برعکس اکتوبر ۱۹۱۴ء میں ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ نے جرمنی اور آسٹریا کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔دوسری طرف برطانیہ، فرانس اور روس تھے اور بعد میں اٹلی اور امریکہ بھی ان اتحادیوں کے ساتھ مل گئے۔چونکہ اس دور میں ترکی کی سلطنت عثمانیہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور اس کے بادشاہ خلیفہ کہلاتے تھے، ان وجوہات کی بنا پر عموماً مسلمانوں میں اس سلطنت کے ساتھ اور ان کے بادشاہ کے ساتھ عمومی