سلسلہ احمدیہ — Page 497
497 ایک لمبی اور تکلیف دہ تاریخ ہے اور یہ حقائق معروف ہیں۔جب ہم یہ الفاظ لکھ رہے ہیں اسی پیپلز پارٹی نے جس کی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل صاحب سوالات کر رہے تھے ، اقوام متحدہ سے اپیل کی ہوئی ہے کہ وہ اس کی چیئر پرسن اور ملک کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کی تحقیقات کرے حالانکہ اس وقت ملک میں پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے۔پھر یہ فرسودہ اور بالکل غلط الزام دہرانے کی کوشش کی گئی کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے برابر ہے۔اور پھر یہ سوالات شروع ہو گئے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مقام نبوت یکلخت ملا تھا یا تدریجی طور پر ملا تھا۔ان تمام سوالات کا زیر بحث معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اب یہ ظاہر تھا کہ سوال کرنے والے محض وقت گزار رہے تھے اور ان کے پاس کرنے کو اب کوئی ٹھوس سوال نہیں تھا۔اس مرحلہ پر وقفہ ہوا اور نو بجے کے بعد جب کا رروائی شروع ہوئی تو جماعت کے وفد کے آنے سے پہلے ایک ممبر عبد الحمید جتوئی صاحب نے اکتا کر کہا، یہ کب تک چلے گا۔“ پیکر صاحب بھی کچھ جھنجلا چکے تھے ، وہ کہنے لگے کہ جب تک آپ چلا ئیں گے۔اور پھر چھ ممبران کا تعین ہوا جو ابھی مزید سوالات پوچھنا چاہتے تھے۔شاہ احمد نورانی صاحب نے کہا کہ ابھی دو چار روز اور چلا لیں۔اس پر سپیکر صاحب نے اصرار کیا کہ نہیں اب اس کو ختم کیا جائے۔اور یہ دو چار روز اور نہیں چلے گا یہ تمی بات ہے۔پھر جو کچھ انہوں نے کہا وہ من و عن درج ہے:۔۔کچھ موضوعات انگلی اسمبلی کے لیے بھی چھوڑ دیں جو آپ کے Successor ہیں۔انہوں نے بھی کچھ فیصلے کرنے ہیں۔یہ تو نہیں کہ آپ نے قیامت تک کے تمام فیصلے کر دینے ہیں۔ابھی آگے اسمبلیاں بھی رہیں گی۔۔اس پر عبدالحمید جتوئی صاحب نے لقمہ دیا کہ قیامت میں ایک صدی باقی رہتی ہے۔سپیکر صاحب نے اس کے جواب میں کہا: ایک صدی کے معاملات کا فیصلہ بھی تو یہ اسمبلی نہیں کر سکتی۔“ اس مرحلہ پر حضور ہال میں تشریف لائے اور ان کی آپس کی نوک جھونک ختم ہوئی۔اٹارنی جنرل صاحب نے آغاز میں ان حوالوں کا ذکر کر کے جو وقفہ سے پہلے پیش ہوئے تھے اور جن کو چیک کرنا تھا،