سلسلہ احمدیہ — Page 477
477 چیزیں ہیں وہ آپ کے علم میں ضرور ہوں گی۔“ اس مرحلہ پر ان کے اس جملہ کا تجزیہ ضروری ہے۔جماعت نے پہلے سپیشل کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ جو سوالات کیے جانے ہیں وہ پہلے سے بتادئے جائیں تا کہ جماعت کے لٹریچر سے متعلقہ حوالہ جات نکال کر، پوری تحقیق کر کے ان کے جوابات کمیٹی کو دیئے جائیں۔لیکن کمیٹی اس خیال میں تھی کہ وہ کوئی بہت حیران کن سوالات پیش کرے گی۔جب وہ سوالات تو پیش کیے گئے جو مولوی ممبران اسمبلی نے لکھ کر دئے اور اٹارنی جنرل صاحب نے ان کو حضور کے سامنے رکھا تو جماعت نے تحقیق شروع کی تو معلوم ہوا کہ بہت سے پیش کردہ حوالے تو سرے سے غلط تھے یا پوری عبارت نہیں پیش کی گئی تھی۔اب کوئی بھی شخص جماعت کے پورے لٹریچر کا تمام اخبارات کا تمام حوالوں کا حافظ نہیں ہوسکتا۔یہ تو حوالہ پیش کرنے والے کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صحیح صفحہ صحیح عبارت صحیح ایڈیشن پیش کرے۔اور اٹارنی جنرل صاحب بلکہ پوری قومی اسمبلی اس معاملہ میں مکمل طور پر نا کام ہوئی تھی تو اس کا الزام جماعت کے وفد کو دینا بالکل خلاف عقل تھا۔اور جہاں تک برے Inference کا تعلق ہے تو یہ اس وقت ہونا چاہئے تھا جب کہ خود اٹارنی جنرل صاحب کے پیش کردہ حوالے غلط ثابت ہو رہے تھے۔اور رہی یہ بات کہ گزشتہ نوے برس کے دوران دنیا کے بیسیوں ممالک میں جماعت کا جو جریدہ اور جو کتاب چھپی تھی۔یا کسی احمدی شاعر نے اگر کوئی شعر کہا تھا یا کسی جماعت نے کوئی قرار داد پاس کی تھی ، یہ تمام باتیں خلیفہ وقت کے ذہن میں ہر وقت مستحضر ہونی چاہئیں ، اٹارنی جنرل صاحب کی اس بات کو کوئی بھی صاحب عقل تسلیم نہیں کر سکتا۔زیادہ سے زیادہ یہ حسن ظن کیا جاسکتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان کو جو نا کامی ہو رہی تھی اس نے وقتی طور پر ان کی قوت فیصلہ کو مفلوج کر دیا تھا۔حضور نے اس کا یہ اصولی جواب دیا کہ وو ” یہ Inference میرے نزدیک درست نہیں ہے۔اس لئے میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ لاکھوں صفحوں کی کتب جن کی اشاعت تقریباً نوے سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں اس کا حافظ ہوں اور ہر حوالہ مجھے یاد ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا و لیکن جب میں یہ کہتا ہوں کہ میرے علم میں نہیں ہے تو آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ