سلسلہ احمدیہ — Page 428
428 اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ تمام فرقوں کے مطابق مسیح موعود نے آنحضرت کے بعد آنا ہے تو کیا ان فرقوں کے نزدیک آخری نبی نہیں بن جائے گا۔اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔اور حضور نے شاہ محمد اسمعیل شہید صاحب کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان میں لکھا تھا اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فرشتہ جبرئیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے۔(۷۲) اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔روز قیامت سارے نبی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں گے۔آخری نبی کون شمار ہوگا۔حضرت محمد ﷺ یا مسیح یا عیسی 66 علیہ السلام " اس پر حضور نے یہ پر معرفت جواب دیا کہ " حضرت محمد اللہ سب سے پہلے نبی بھی ہیں اور سب سے آخری نبی بھی ہیں۔“ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا آخری نبی وہی ہو جائیں گے۔“ اس پر حضور نے فرمایا: ”بالکل۔“ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے پھر یہ بحث اُٹھائی کہ اب اور نبی آسکتے ہیں اور آخری نبی کون ہوگا۔اور سپیکر صاحب نے بھی اصرار کیا کہ اس سوال کا جواب نہیں آیا۔اس پر حضور نے پھر فرمایا کہ امت محمدیہ میں وہ اشخاص جن کی بزرگی پر شک نہیں کیا جاسکتا، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو محمد ﷺ جیسے کروڑوں پیدا کر سکتا ہے تو ان کے لئے یہ بات خاموشی سے قبول کر لی جاتی ہے تو وہ بات ہمارے لئے بحث کا موضوع کس طرح بن سکتی ہے۔اور فرمایا کہ جس امتی نبی کی بشارت دی گئی تھی اس کا اپنا کوئی وجود نہیں۔اور اس نے آنحضرت ﷺ کے مقاصد کے لئے اپنے نفس پر کامل موت وارد کی ہے۔اس لئے اس کو آخری نبی نہیں کہا جاسکتا۔حضور نے ان کی توجہ اس امر کی طرف بھی مبذول کرائی کہ رسول کریم ﷺ نہ صرف انبیاء کا آخر ہیں بلکہ اول بھی ہیں۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس وقت سے اللہ