سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 413 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 413

413 کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت فاطمہ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹایا اور وہ اچھے ہو گئے۔حضور نے اس کے علاوہ بعض اور مثالیں پڑھ کر سنائیں۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے جو یہ دیکھا کہ جو تاثر وہ پیدا کرنا چاہتے تھے اس سے تو الٹ نتیجہ برآمد ہو رہا ہے۔تو انہوں نے اس موضوع کو بدلنے کے لیے گفتگو کا رخ وحی کے موضوع کی طرف کیا اور کہا کہ وحی تو صرف نبیوں کو ہوتی ہے۔اب وہ ایک اور غلط بات کہہ گئے تھے۔قرآنِ کریم میں شہد کی مکھی کو بھی وحی ہونے کا ذکر ملتا ہے۔جب حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے اور اس ضمن میں سورۃ نحل کی آیت پڑھنی شروع کی تو اٹارنی جنرل صاحب نے قطع کلامی کر کے ایک اور سوال کرنے کی کوشش کی تو اس پر حضور نے انہیں یاد دلایا کہ ” میں قرآن کریم کی آیت پڑھ رہا ہوں۔لیکن وہ پھر ھی نہ سمجھ کہ یہ مناسب نہیں کہ قرآن کریم کی آیت پڑھی جارہی ہو اور کوئی شخص بیچ میں اپنی بات شروع کر دے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں اس واسطے Clarification پوچھ رہا ہوں۔اس پر حضور نے واضح کرنے کے لیے قرآن کریم کی وہ آیت پڑھی جس میں حضرت موسی کی والدہ کو وحی ہونے کا ذکر ہے۔اور اٹارنی جنرل صاحب کے پاس ان ٹھوس دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اشعار پر اعتراض کیا تھا۔اس کے بعد حضور نے ان کا صحیح مطلب بیان فرمایا۔پھر نبی اور محدث کی اصطلاحات پر بات ہوئی۔اس کا رروائی کے دوران یہ صورت حال بار بار سامنے آرہی تھی کہ سوال پیش کرتے ہوئے حضرت صحیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ بغیر سیاق وسباق کے پڑھ کر کوئی اعتراض اٹھانے کی کوشش کی جاتی لیکن جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث تمام حوالہ پڑھتے تو اعتراض خود بخود ہی ختم ہو جاتا۔کچھ سوال کرنے والوں کی علمی حالت بھی دگر گوں تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھا دیا کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام شرعی نبی تھے۔حالانکہ یہ بات تو بچوں کو بھی معلوم ہے کہ حضرت عیسی کوئی نئی شریعت نہیں لے کر آئے تھے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جو معین جملہ کہا وہ یہ تھا و, مرزا صاحب میں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت عیسی امتی نبی نہیں تھے کیونکہ