سلسلہ احمدیہ — Page 388
388 پڑھ دی جاتی اور بس۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔اور جو الفاظ اٹارنی جنرل صاحب نے پڑھے تھے وہ معین الفاظ اس کتاب میں موجود نہیں ہیں۔صحیح طریق تو یہی ہے کہ حوالہ کی معین عبارت پڑھی جائے۔کتاب سامنے موجود تھی ، سادہ سی بات تھی کتاب اُٹھاتے اور معین عبارت پڑھ دیتے۔مغرب کی نماز کے بعد جب کارروائی شروع ہوئی تو حقیقۃ الوحی کے اسی حوالہ سے بات شروع ہوئی جس کا حوالہ وقفہ سے پہلے دیا جا رہا تھا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اب بھی پرانی غلطی پر مصر تھے۔انہوں نے ایک بار پھر معین عبارت پڑھنے کی بجائے اپنی طرف سے اس کا خلاصہ پڑھا البتہ اس مرتبہ یہ نہیں کہا کہ یہ حقیقۃ الوحی کے اس صفحہ پر لکھا ہے بلکہ یہ کہنے پر اکتفا کی کہ کسی تحریر میں لکھا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا: کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں لکھا ہے کہ کفر کی دو قسمیں 66 ہیں۔ایک آنحضرت ﷺ سے انکار اور دوسرا مسیح موعود سے انکار “ حضور نے ان کی غلطی سے صرف نظر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے آگے کی عبارت خود اس کا مطلب واضح کر دیتی کیونکہ آگے لکھا ہے کہ جو باوجود اتمام حجت کے اس کو جھوٹا جانتا ہے۔حالانکہ خدا اور رسول نے اس کے ماننے کی تاکید کی ہے۔کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔کچھ دیر بعد پھر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک عجیب رخ اختیار کر لیا۔اور یہ بحث اٹھا دی کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ کیا ہے ، یہ کوئی خفیہ امر نہیں۔جماعت کا وسیع لٹریچر بیسیوں زبانوں میں دنیا کے سو سے زائد ممالک میں اچھی طرح معروف ہے۔ہر کتاب میں ، ہر تحریر میں کوئی ایک صدی سے یہی لکھا ہوا ملے گا کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے۔دنیا بھر کے دوسو کے قریب ممالک میں کسی احمدی بچے سے بھی پوچھ لیں تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہمارا کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے۔لیکن اس کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب ایک تصویر اٹھالائے جو کہ نائیجیریا کے ایک شہرا جیبو اوڈے میں جماعت کی مسجد کی تھی۔اس کے اوپر کوفی رسم الخط میں کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔اور اس رسم الخط میں محمد کی پہلی میم کو لمبا کر کے لکھا گیا تھا۔اور اس کو دکھا کر اٹارنی جنرل صاحب یہ باور کروانے کی کوشش فرما رہے تھے یہ محمد رسول اللہ نہیں لکھا تھا بلکہ احمد رسول اللہ لکھا تھا۔یعنی کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ احمدیوں کا تو کلمہ ہی مسلمانوں سے علیحدہ ہے۔حضور نے اس امر پر گفتگو