سلسلہ احمدیہ — Page 285
285 سامان پیدا کیا جائے۔اسی لئے پچھلے جمعہ کے موقع پر بھی میں نے ایک رنگ میں جماعت کو خصوصاً جماعت کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ یہ تمہارا مقام ہے اسے سمجھو اور کسی کے لئے دکھ کا باعث نہ بنواور دنگا فساد میں شامل نہ ہو اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے تسکین کا بھی باعث ہے، ترقیات کا بھی باعث ہے۔وہ ہے صبر اور دعا کے ساتھ اپنی اپنی زندگی کے لمحات گزارنا۔صبر اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات گزار و مگر اہلِ ربوہ میں سے چند ایک نے اس نصیحت کو غور سے سنا نہیں اور اس پر عمل نہیں کیا اور جو فساد کے حالات جان بوجھ کر اور جیسا کہ قرائن بتاتے ہیں بڑی سوچی کبھی سکیم اور منصوبہ کے ماتحت بنائے گئے تھے اس کو سمجھے بغیر جوش میں آکر وہ فساد کی کیفیت جس کے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مخالفت کی اس تدبیر کو کامیاب بنانے میں حصہ دار بن گئے اور فساد کا موجب ہوئے۔۲۹ مئی کوٹیشن پر یہ واقعہ ہوا۔اس وقت اس واقعہ کی دو شکلیں دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جو انتہائی غلط اور باطل شکل ہے مثلاً ایک روز نامہ نے لکھا کہ پانچ ہزار نے حملہ کر دیا۔مثلاً یہ کہ سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ایسا کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔یہ بالکل غلط ہے اس میں شک نہیں لیکن دوسری شکل یہ ہے کہ کچھ آدمیوں نے بہر حال اپنے مقام سے گر کر اور خدا اور رسول کی اطاعت کو چھوڑتے ہوئے فساد کا جو منصو بہ دشمنوں کی طرف سے بنایا گیا تھا اسے کامیاب کرنے میں شامل ہو گئے۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور چونکہ ایسا ہوا اور اگر دشمن کو آپ کے دس آدمی ایک ہزار نظر آتے ہیں تو اس سے آپ کی برات نہیں ہوتی یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے لیکن آپ کی براءت اس سے نہیں ہوتی جتنے بھی اس جھگڑے میں شامل ہوئے۔انہوں نے غلطی کی اور سوائے نفرت اور مذمت کے اظہار کے ان کے اس فعل کے خلاف ہم کچھ نہیں کر سکتے نہ امام جماعت احمدیہ اور نہ جماعت احمد یہ۔اس لئے انہوں نے تو غلطی کی اور چونکہ وہ دشمن کی سوچی سمجھی تدبیر تھی اور ایک نہایت بھیا نک منصوبہ ملک کو خراب اور تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اب اس میں آپ کا ایک حصہ شامل ہو گیا اور اب ملک کے ایک حصہ میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس رنگ میں ہوا دی جا رہی