سلسلہ احمدیہ — Page 284
284 کہ جسٹس صمدانی کو ربوہ ٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا جارہا ہے (۱۰)۔پنجاب اسمبلی میں حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین جو رویہ دکھا رہے تھے اور جس قسم کے بیانات دے رہے تھے اس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس دور میں پیپلز پارٹی کا کوئی رکن اسمبلی وزیر اعظم بھٹو صاحب کے منشاء کے بغیر اس نوعیت کی بیان بازی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔اس پس منظر میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس مئی کے خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ محمد کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ وَاَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ * وَاللهُ مَعَكُمُ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ (محمد ۳۶،۳۴) ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔تم ہی غالب آنے والے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہیں تمہارے اعمال ( کا بدلہ ) کم نہیں دے گا۔ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: امت مسلمہ کو ان آیات میں ان بنیادی صداقتوں سے متعارف کرایا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ اگر امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے عملاً باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ان کے اعمال کا موعود نتیجہ نہیں نکلے گا اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے اور دوسرے یہ کہ دنیا جتنا چاہے زور لگالے وہ امت مسلمہ پر ، اگر وہ امت اسلام پر حقیقی معنی میں قائم ہو کبھی غالب نہیں آسکتی۔علو اور غلبہ امت مسلمہ کے ہی مقدر میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے فرمایا وَ اللهُ مَعَكُمُ کہ ان کا ایک حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے۔۔۔پھر حضور نے فرمایا: 66 ہمیں سختی سے اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ گالیوں کا جواب دعاؤں سے دینا اور جب کسی کی طرف سے دکھ دیا جائے تو اس کا جواب اس رنگ میں ہو کہ اس کے لئے سکھ کا