سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 244 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 244

244 لاہور کی اسلامی سربراہی کا نفرنس جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں صد سالہ جو بلی کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مسلمانوں کے تمام فرقوں کو اتحاد عمل کی دعوت دی تھی اور فرمایا تھا کہ تمام فرقوں کو دنیا میں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لیے کام کرنا چاہئے۔اس سے قبل ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے عالم اسلام کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ پس حکومت وقت یا دوسری اقوام عالم جن کا تعلق اسلام سے ہے ان کا یہ کام ہے ( ہر فردا گر اپنے طور پر اس قسم کے منصوبے بنائے تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوا کرتا ہے ) کہ وہ سر جوڑیں اور منصوبے بنا ئیں اور پھر ہر اسلامی ملک کی ذمہ داریوں کی تعیین کریں مثلاً کہیں کہ فلاں ملک اس مہم اور مجاہدے میں یہ یہ خدمات اور قربانیاں پیش کرے یا اس قسم کا ایثار اور قربانی سامنے آنی چاہئے۔جب سارے اسلامی ممالک کسی منصوبے کے ماتحت اسلام کے دشمن کو جو اپنے ہزار اختلافات کے باوجود اکٹھا ہو گیا ہے اس کے منصوبوں کو نا کام بنانے کے لئے ایک جدو جہد، ایک عظیم جہاد اور مجاہدے کا اعلان کریں گے پھر دیکھیں گے کہ کون اس میدان میں آگے نکلتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور ایک ہزار کی نسبت سے آگے نکل جائیں گے بلکہ ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ آگے نکلنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔“ ( خطبات ناصر جلد پنجم ص ۲۶۲) اور اسی خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا تھا پاکستان کی حکومت ملک کی خاطر جو بھی قربانی مانگے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی سب سے بڑھ کر قربانیاں پیش کریں گے۔اس پس منظر میں جب کہ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت کی ایک مہم چلائی جارہی تھی ، حضرت خلیفتہ المسیح الثالث پوری دنیا کے مسلمانوں کو محبت کا پیغام دے رہے تھے، مشترکہ طور پر اسلام کی خاطر قربانیاں کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔فروری ۱۹۷۴ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔اور