سلسلہ احمدیہ — Page 188
188 فرمایا نہیں ! میں خود ہی یہ کام کروں گا۔کیونکہ میرے خدا نے مجھے فرمایا ہے کہ تم یہ کام کرو۔حضور نے اس ٹورنامنٹ کی ترقی کے متعلق فرمایا۔” جیسا کہ ابھی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، اس ٹورنامنٹ میں کچھ ترقی تو ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں ہوئی جتنی ہماری خواہش ہے۔صرف ۳۳ جماعتوں کے گھوڑے یہاں پہنچے ہیں۔حالانکہ ہماری جماعتوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔ہر جماعت میں کم از کم ایک گھوڑا تو ہونا چاہئے خواہ دیسی ٹیر ہی کیوں نہ ہو۔یہ بھی بڑی کام آتی ہے۔۲۰ میل کی دوڑ میں اس ٹیر نے زبان حال سے ہماری طرف منہ موڑ کر بڑی شان سے کہا تھا کہ تم مجھے ٹیرٹیر کہا کرتے تھے مگر دیکھو آج میں عرب گھوڑوں اور حاجی بشیر کے تھا رو بریڈ کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل آئی ہوں۔اس میں بھی ایک برکت ہے اور یہ بڑا کام آتی ہے اور یہ آگے اس لئے نکل آئی کہ جو لوگ ٹیریں رکھنے والے ہیں وہ اپنی ضرورت کے لئے رکھتے ہیں ،شان کے لئے تو نہیں رکھتے۔اس لئے ان کی ضرورت ان کو مجبور کرتی ہے کہ روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن اس پر ۲۵۔۳۰ میل کا سفر کریں اس لئے اس کو چلنے کی عادت ہے اور وہ دوڑ کر تھکی نہیں۔مگر جن کو عادت نہیں تھی وہ تھک گئیں۔‘(1) اسی طرح ربوہ میں ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ کے نام سے باسکٹ کا ایک ٹورنامنٹ شروع کیا گیا جس میں ملک کی چوٹی کی ٹیمیں شرکت کرتیں۔حضور بھی اس میں شرکت فرماتے بلکہ جہاں پر کھلاڑی ٹھہرے ہوتے ، آپ وہاں تشریف لے جاتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔اور طاہر کبڈی ٹورنامنٹ کے نام سے کبڈی کا ایک ٹورنامنٹ بھی منعقد ہوتا جس میں ملک کی اچھی اچھی ٹیمیں شرکت کرتیں اور لوگ اس دیسی کھیل سے محظوظ ہوتے۔(1) الفضل سے مارچ ۱۹۷۲ ص ۱ و ۲ (۲) خطبات ناصر جلد ۴ ص ۶۹ تا ۷۹ (۳) مشعل راہ حصہ دوم شائع کرده مجلس خدام لا احمد یہ ص ۳۷۵ (۴) مشعل راہ حصہ دوم شائع کرده مجلس خدام لا احمد ی ص ۳۸۲ تا ۳۸۳