سلسلہ احمدیہ — Page 184
184 کی اسے تلقین کی گئی اور جس کے نباہنے کی اسے تعلیم دی گئی ہے۔غرض صرف ویٹ لفٹنگ یعنی مادی بوجھ اُٹھانے کے معنی میں قومی کا لفظ استعمال نہیں ہوتا مثلاً قوت برداشت ہے۔جس آدمی میں قوت برداشت ہوتی ہے وہ بھی قوی ہوتا ہے۔پھر عزم ہے یہ بھی دراصل اسی قوت کی جھلک ہوتی ہے۔پس انبیاء علیہم السلام کے سچے متبع قوی بھی ہوتے ہیں اور امین بھی۔یعنی وہ ہر قسم کی قوت کو ترقی دیتے ہیں اس کی نشو و نما کرتے ہیں اور اس طرح اپنے دائرہ میں ایک حسین ترین وجود بن جاتے ہیں۔جہاں تک امانت کا تعلق ہے یہ تو دنیانے انبیاء علیہم السلام سے سیکھی ہے اور خیانت اسوہ نبی سے دوری کا نام ہے۔آج پاکستان کو جو ذلت دیکھنی پڑی ہے ،اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ امین نہ ہونا ہے یعنی امانت کا فقدان اور خیانت میں اتنی وسعت کہ تصور میں بھی نہیں آسکتی۔اگر یہ حال نہ ہوتا تو ہمیں آج یہ دکھ برداشت نہ کرنا پڑتا۔ورزش کے لئے باسکٹ بال کھیلنا ہی ضروری نہیں ہے۔سب سے اچھی اور سب سے زیادہ آسانی سے کی جانے والی ورزش تو سیر ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت بھی ہے۔اس لئے ربوہ کے دوست روزانہ سیر کے لئے چاروں طرف نکل جایا کریں۔میں جب آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا تو ہمارا Balliol کالج Active ہونے کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتا تھا۔میں نے دیکھا کہ جس طرف بھی سیر کو جائیں، اگر سو طلباء راستے میں سیر کرتے ہوئے ملے ہیں تو ان میں سے پچاس سے زیادہ Balliol کالج کے ہوتے تھے، غرض وہ بڑا Active کالج ہوتا تھا۔وہ سویا نہیں رہتا تھا یعنی ” پوستی کا لج نہیں تھا بلکہ ہر چیز میں آگے تھا۔پس سیر ایک بڑی اچھی ورزش ہے اور اس میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مختلف نظارے سامنے آتے ہیں۔شہر کے اندر رہتے ہوئے جو چیزیں نظر نہیں آتیں وہ باہر نکل کر نظر آجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات اس کائنات میں جلوہ گر ہیں ہمیں ان کو دیکھنا چاہئے اور ان کے متعلق غور کرنا چاہئے اور ان سے لذت حاصل کرنی چاہئے اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔(۲)