سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 112 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 112

112 صاحب نے کہا کہ جماعت احمد یہ سیرالیون میں قابل تعریف کام کر رہی ہے۔اور جماعت نے جو سکول جاری کئے ہیں ان میں قابل تعریف کام ہو رہا ہے۔اور انہوں نے احمدی پیراماؤنٹ چیف مکرم گما نگا صاحب کی بہت تعریف کی۔حضور نے فرمایا کہ حکومت قوم کے لئے بمنزلہ باپ ہوتی ہے۔اس کا فرض ہے کہ بچوں کا خیال رکھے۔نئی نسل کا حق ہے کہ اسے اچھی تعلیم دی جائے اور اس کی ذہنی صلاحیتیں اجاگر کی جائیں۔گفتگو کے دوران قائم مقام گورنر جنرل نے کہا کہ اب تو آپ پر کام کا بوجھ بہت ہوگا۔اس پر حضور نے فرمایا دیگر مصروفیات کے علاوہ صرف خطوط کی اوسط جن کو میں پڑھتا ہوں تین سو سے ایک ہزار روزانہ کی ہے۔بعض دفعہ ساری ساری رات احباب کے لئے دعا کرتا ہوں۔پہلے آٹھ گھنٹے روزانہ سوتا تھا اب صرف اڑھائی گھنٹے کی روزانہ اوسط ہے۔اللہ تعالی طاقت دے دیتا ہے۔حضور نے اسلام کے اقتصادی نظام کا کمیونسٹ نظام سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کمیونزم تو صرف ہر شخص کو اس کی ضروریات مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن ضروریات کی تعریف نہیں کرتا۔اسلام کہتا ہے کہ ہر شخص کو اس کی تمام جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کی پوری نشوو نما کا پوراحق ہے اور یہ اس پر احسان نہیں اس کا بلکہ اس کا حق ہے اور اسلام یہ حکومت پر پابندی لگاتا ہے کہ وہ اس حق کی حفاظت کرے اور ایسے ذرائع مہیا کرے جس سے ہر فرد کی پوری صلاحیتوں کی پوری نشو و نما ہو۔اس پر گورنر جنرل نے کہا کہ اس مسئلہ پر میں نے نہ کبھی اس طرح سوچا اور نہ کبھی کسی نے اس انداز سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالی۔پھر سیرالیون میں طبی مراکز قائم کرنے کے متعلق گفتگو ہوئی حضور نے فرمایا کہ یہ کام قربانی اور ایثار کے بغیر انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔اس کے بعد حضور نے وزیر اعظم سیرالیون سے ملاقات فرمائی۔وزیراعظم نے سیرالیون میں جماعت کی خدمات کی تعریف کی۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ ہم تو بحیثیت مسلمان یہ خدمت کر رہے ہیں۔ہم اپنے آپ کو شکریے کا ہر گز حقدار نہیں سمجھتے۔شام کو حضور نے ایک دعوت استقبالیہ میں شرکت فرمائی۔اس دعوت میں احباب جماعت کے علاوہ ملک کے وزیر خارجہ، وزیر زراعت مختلف چیف صاحبان اور سفراء نے شرکت کی۔رات کو مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد حضور رات گئے تک احباب کے درمیان مجلس میں تشریف فرما رہے۔(۴۳)