سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 696 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 696

696 صاحب ۱۹۷۵ ء تا ۱۹۷۷ء، مکرم نواب منصور احمد خان صاحب ۱۹۷۶ء تا ۱۹۸۳ء، مکرم لئیق احمد منیر صاحب ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۲ء۔خلافت ثالثہ کے با برکت دور کے دوران جرمنی میں ذیلی تنظیموں کا قیام بھی عمل میں آیا۔۱۹۷۰ء میں جرمنی میں فرینکفرٹ کے مقام پر پہلی مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا اور مکرم خالد قریشی صاحب اس کے قائد مقرر ہوئے۔اس میں ۱۸ خدام شامل تھے۔اکتوبر ۱۹۷۳ء میں فرینکفرٹ میں لجنہ کی پہلی تنظیم قائم ہوئی ، جس کی صدر قامتہ صاحبہ مقرر ہوئیں۔یہ خاتون سویڈش تھیں اور انہوں نے خود اسلام قبول کیا تھا۔دوسری صدر مکرمہ بیگم صاحبہ ہدایت اللہ ہو بش صاحب مقرر ہوئیں۔ان خاتون کا تعلق ماریشس سے تھا اور ان کی شادی مکرم ہدایت اللہ ہو بش صاحب سے ہوئی تھی۔ان دونوں خواتین نے لجنہ جرمنی کی تربیت اور تنظیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔۱۹۸۲ء میں لجنہ جرمنی کی نیشنل عاملہ کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۷۵ء میں فرینکفرٹ میں مجلس انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا۔اور ۱۹۷۶ء میں ہیمبرگ میں بھی مجلس انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے اپنے دورِ خلافت کے دوران ۱۹۶۷ء، ۱۹۷۰ء، ۱۹۷۳ء، ۱۹۷۶ ء اور ۱۹۸۰ء میں جرمنی کا دورہ فرمایا۔ان دوروں کا ذکر علیحدہ کیا جا چکا ہے۔جرمنی میں تبلیغ کا کام انفرادی تبلیغ کے علاوہ، چرچز اور سکولوں میں سیمینارز اور لیکچروں کے ذریعہ اور ریڈیو پر تقاریر کے ذریعہ جاری تھا۔جب فرینکفرٹ میں جماعت اور مسجد کے قیام کے دس سال مکمل ہونے پر ۱۹۶۹ء میں تقریبات منائی گئیں۔تو سفارتی نمایندوں کے علاوہ شہر کے میئر نے بھی اس میں شرکت کی۔اور اخبارات کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی اس تقریب کا چرچا ہوا۔۱۹۷۱ء میں جرمنی کی جماعت کا پہلا جلسہ سالا نہ ہوا۔اور مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا پہلا اجتماع ۱۹۷۳ء میں منعقد کیا گیا۔جب مکرم فضل الہی انوری صاحب جرمنی میں بطور مبلغ پہنچے تو انہوں نے ایک سرکلر تیار کر کے قریب کے سکولوں کالجوں اور چرچوں میں بھجوا دیا جس کا مضمون تھا ہم جو اسلام کی نمائندہ تنظیم ہیں ہم اسلام سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مضمون پر تقریر کرنے کے لئے اپنے خرچ پر آپ کے پاس آسکتے ہیں۔اگر کوئی سکول یا ادارہ ہمارے پاس آکر اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہے تو ہم اس کا