سلسلہ احمدیہ — Page 604
604 یوز آسف کے کشمیر میں آنے کے بارے میں تاریخی روایات بیان کی گئی تھیں۔اس کے بعد ایک جرمن محقق Mr۔Andreas Faber Kaiser جواب پین میں رہائش رکھتے تھے اپنا مقالہ پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔یہ صاحب مشہور کتاب Jesus died in Kashmir کے مصنف ہیں۔آپ کے مقالہ کا عنوان تھا Jesus did not die on the cross یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔اس مقالے میں انہوں نے اس بات کے ثبوت بیان کئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات صلیب پر یا اس کے نتیجے میں ملنے والے زخموں کے نتیجہ میں نہیں ہوئی اور وہ ان سے شفایاب ہو گئے تھے۔پھر انہوں نے ٹیورن میں رکھے ہوئے اس کفن کی تفصیلات بیان کیں جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ وہ کپڑا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب کے بعد رکھا گیا تھا۔اس روز کی کارروائی کا آخری مقالہ Dr۔Ladislav Filip کا تھا۔آپ کا تعلق چیکو سلاویکیا سے تھا۔آپ نے فلسطین کے باہر حضرت عیسی کی زندگی کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر کے موضوع پر لیکچر دیا۔انہوں نے آغاز میں ہی کہا کہ حضرت عیسی کے زندگی کے بارے میں معقولیت پسند مورخین نے کم ہی کام کیا ہے۔اس کے بعد انہوں نے مختلف تاریخی روایات بیان کیں جن میں واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور مختلف علاقوں کی طرف سفر کا اشارہ ملتا ہے۔اس لیکچر کے بعد سوال جواب ہوئے اور پھر پہلے روز کی کارروائی ختم ہوئی۔دوسرے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو آڈیٹوریم پورا بھرا ہوا تھا اور باقی سامعین دوسرے ہالوں میں ٹی وی پر کارروائی دیکھ رہے تھے یا اس عمارت کے دوسرے حصوں میں لاؤڈ سپیکر پر کاروائی سن رہے تھے۔اس روز کا پہلا لیکچر ڈنمارک کے مکرم عبد السلام میڈیسن صاحب کا تھا۔انہوں نے اس مسئلہ کے متعلق قرآنی آیات پیش کیں اور ان سے استدلال بیان کیا۔اس کے بعد کا نفرنس کے کنویز مکرم بشیر احمد رفیق صاحب امام مسجد لندن کا لیکچر تھا۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں پائے جانے والے مختلف نظریات کا ذکر کیا اور پھرانا جیل کے مختلف حوالہ جات سے ثابت کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔اس کے بعد حضرت چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب اپنا مقالہ پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔آپ کے مقالہ کا موضوع تھا