سلسلہ احمدیہ — Page 603
603 لندن مشن کو دھمکیوں پر مشتمل خطوط بھی موصول ہو رہے ہیں لیکن بہر حال ہمیں جو ہدایت قرآن کریم نے دی ہے وہ تو یہی ہے کہ فلا تخشوهم واخشونی یعنی تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو۔چنانچہ اس کے مطابق ہم ان دھمکیوں سے نہیں ڈرتے اور ہماری فطرت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناکامی کا خمیر ہی نہیں ہے۔پھر حضور نے فرمایا کفن مسیح کی تحقیق کے بارے میں ماہ مئی میں عیسائیوں نے جس کا نفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا اسے غالباً ہماری اس کا نفرنس کی وجہ سے ہی اب ملتوی کر کے ماہ اگست پر ڈال دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اس کفن کے بارے میں کچھ تحریر نہیں فرمایا اور حضور نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کے صلیب پر نہ مرنے اور زندہ اتارے جانے کے متعلق اتنی واضح شہادتیں اور زبردست ثبوت موجود ہیں کہ اگر عیسائی دنیا کا ایک حصہ اسے بناوٹی بھی ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو بھی دنیا اب ان کے چکر میں نہیں آسکتی اور نہ ہی ہم اسے زیادہ اہمیت دیتے ہیں (۲)۔۲ رجون ۱۹۷۸ء کو اس کا نفرنس کا افتتاح ہوا۔کئی ہفتہ پہلے ہی تمام سیٹوں کی ریز ویشن ہو چکی تھی۔افتتاح کے وقت ہی ان جگہوں پر بھی جگہ خالی نہیں رہی جہاں ٹی وی کے ذریعہ کارروائی دکھائی جارہی تھی۔کانفرنس کے آغاز پر امام مسجد لندن مکرم بشیر احمد رفیق صاحب نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے احباب کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم سب یہاں پر سچ کی تلاش میں اور خدا کی منشا کو پورا کرنے کے لئے آئے ہیں۔یہاں پر ان عقائد کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں جن کی ترویج چرچ کی طرف سے کی جاتی ہے بلکہ ہمارا مقصد حقیقی مسیح کو تلاش کرنا ہے۔اس کے بعد حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے کانفرنس کا با قاعدہ افتتاح فرمایا۔اس کے بعد ہندوستان کے مشہور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر ایف ایم حسنین نے اپنا مضمون پڑھنا تھا۔آپ بہت سی کتب کے مصنف ہیں اور ۱۹۵۴ء سے لے کر ۱۹۸۳ ء تک کشمیر میں, State Archives Archeology Research, Museum کے ڈائریکٹر رہے۔اپنی طرز کے آدمی تھے بہت سے سادھووں اور فقیروں کے پاس بھی جا کر رہتے رہے۔اس کا نفرنس میں وہ بعض نا مساعد حالات کی وجہ سے لندن نہ پہنچ سکے اس لئے ان کا مقالہ ایئر مارشل ظفر چوہدری صاحب نے پڑھ کر سنایا۔یہ مقالہ محلہ خانیار سرینگر میں یوز آسف کے مقبرہ کے بارے میں تھا۔اور اس مقالہ میں