سلسلہ احمدیہ — Page 602
602 منشاء نہیں جو تم محض افتراء سے خدا تعالیٰ کے کلام پر تھوپ رہے ہو بلکہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ نے محض موت ہی کے معنوں کے واسطے وضع کیا ہے اور یہی حقیقت اور اصل حال ہے۔دیکھو ہر ایک خصوصیت جو کہیں کسی خاص شخص کے متعلق پیدا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ضرور جواب دیا ہے مگر کیا وجہ اتنی بڑی خصوصیت کا کوئی جواب نہیں دیا۔خصوصیت ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے شرک پیدا ہوتا ہے۔(۱) وو حضرت بھائی عبد الرحمن قادیانی صاحب یہ تقریر قلمبند کرتے ہوئے لکھتے ہیں یہ حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی میں آپ کی آخری تقریر ہے جو آپ نے بڑے زور اور خاص جوش سے فرمائی۔دورانِ تقریر آپ کا چہرہ اس قدر روشن اور درخشاں ہو گیا تھا کہ نظر اُٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاتا تھا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر میں ایک خاص اثر اور جذب تھا۔رعب، ہیبت اور جلال اپنے کمال عروج پر تھا۔بعض خاص خاص تحریکات اور موقعوں پر حضرت اقدس کی شان دیکھنے میں آئی ہوگی جو آج کے دن تھی۔اس تقریر کے بعد آپ نے کوئی تقریر نہیں فرمائی۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بہت سی کتب میں اس اہم موضوع پر دلائل بیان فرمائے اور خاص طور پر اپنی تصنیف ” مسیح ہندوستان میں میں اس موضوع پر بہت وسیع بنیادوں پر قائم تحقیق بیان فرمائی ہے۔آپ نے اناجیل سے بھی دلائل بیان فرمائے ، تاریخی کتب اور طب کی پرانی کتب سے بھی دلائل دیئے۔تاریخی کتب کے حوالے بھی درج کئے ، انساب کے علم سے بھی ثبوت مہیا فرمائے اور عقلی پہلو سے بھی عیسائیت کے عقائد کا بطلان واضح فرمایا۔یہ مسئلہ مذہبی دنیا میں ایک بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ جن دلائل کو آپ نے بیان فرمایا تھا ان کی صداقت اور بھی واضح ہوکر سامنے آتی رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فیصلہ فرمایا کہ ۱۹۷۸ ء میں اس موضوع پرلندن میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جائے۔حضور اس کا نفرنس میں شرکت کے لئے ۸ رمئی ۱۹۷۸ء کور بوہ سے روانہ ہوئے۔حضور نے روانگی سے قبل بعد نماز عصر احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا نفرنس کا وہاں پر چر چا شروع ہو گیا ہے۔چرچ کی طرف سے اس پر اظہار ناپسندیدگی کیا گیا ہے۔اور ہمارے