سلسلہ احمدیہ — Page 599
599 حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی وفات حضرت سیدہ نواب مبارکه بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے ایک بابرکت وجود تھیں۔آپ کی پیدائش ۲ مارچ ۱۸۹۷ کو ہوئی آپ کی پیدائش سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام بتایا گیا تھا تنشا فی الحلیة یعنی زیورات میں پرورش پائے گی۔اس سے معلوم ہوتا تھا کہ لڑکی کی پیدائش ہوگی اور یہ لڑکی نہ کم عمری میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔پھر ۱۹۰۱ء میں آپ کے متعلق الہام ہوا ” نواب مبارکہ بیگم (۱) ۱۹۰۱ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مبارکہ سلمہا اللہ پنجابی زبان میں بول رہی ہے کہ مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ ایسی آئی جس نے ایہہ مصیبت پائی۔(۲) آپ کو بچپن ہی سے رویا صالحہ دکھائے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میری یہ بچی بہت خواہیں دیکھتی ہے اور اکثر وہ خوا ہیں بچی نکلتی ہیں۔آپ نے قاعدہ حضرت پیر منظور محمد صاحب سے پڑھا۔حضرت پیر منظور صاحب نے قاعدہ میسر نا القرآن آپ کو اور اپنی ایک بیٹی کو پڑھانے کے لئے ایجاد کیا تھا۔آپ بچپن ہی سے بہت ذہین و فہیم تھیں اور جلد ہی قرآن کریم روانی سے پڑھنے لگیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے آپ کو پہلے تین پاروں کا ترجمہ پڑھایا اور باقی ترجمہ آپ نے حضرت خلیفہ اول سے پڑھا۔اس کے علاوہ آپ نے فارسی اور عربی کی بعض کتب پڑھیں۔اور شادی کے بعد آپ نے انگریزی کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی اور انگریزی کتب بھی آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھی (۴)۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت نواب محمد علی خان صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک زندگی میں آخری سال میں ہوا۔۱۷/فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مولانا نورالدین صاحب نے خطبہ نکاح پڑھا اور فرمایا کہ ایک وقت تھا جب کہ حضرت نواب صاحب موصوف کے مورث اعلیٰ صدر جہاں کو ایک بادشاہ نے اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی۔اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا۔مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خان صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے۔(۳)