سلسلہ احمدیہ — Page 585
585 جماعت کے سکول ، بشیر ہائی سکول کے بورڈ آف گورنر کے ممبر تھے انہیں ہدایت دی کہ ان کا اب سکول سے کوئی تعلق نہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سکول کے بورڈ آف گورنر کے چیئر مین سلیمان مو آنجے صاحب تھے۔ان حالات میں انہیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تار موصول ہوئی کہ وہ سکول کی خدمت کرتے رہیں۔جبکہ بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔لیکن پھر یکلخت یہ خبر موصول ہوئی کہ مسلم سپریم کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سلیمان مو آنجے صاحب بدستور سکول کے بورڈ آف گورنرز کے چیئر مین رہیں گے۔اس کا پس منظر یہ تھا کہ سکول کو اپنی تحویل میں لیتے ہی کچھ مالی بدعنوانی کے واقعات ہوئے تو مسلم سپریم کونسل کے اعلیٰ عہدیداران نے یہی مناسب سمجھا کہ سلیمان مو آنجے صاحب بدستور اس عہدے پر برقرارر ہیں۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ عیدی امین صاحب نے اعلان کیا تھا کہ شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔ابھی جماعت احمدیہ کے خلاف یہ قدم اُٹھائے دو دن ہی گزرے تھے کہ شاہ فیصل کو ان کے بھتیجے نے گولی مار کر قتل کر دیا۔لیکن جماعت احمدیہ پر پابندی لگنے کے کچھ ہی عرصہ کے بعد عیدی امین کی حکومت کو سعودی عرب سے دوبارہ امداد ملنے لگی۔حکومت کے فیصلہ کے ساتھ ہی یوگینڈا میں تمام مشن ہاؤس، جن میں کمپالا ، مسا کا اور جنجا کے مشن ہاؤس بھی شامل تھے اور کمپالا میں جماعت کا سکول جماعت کے مخالفین یعنی مسلم سپریم کونسل نے اپنی تحویل میں لے لئے۔اور جماعت احمدیہ کے لئے وہاں پر اپنی تبلیغی و تربیتی کام کھلم کھلا جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔پابندیوں کا یہ حال تھا کہ اگر جنجا میں کسی احمدی نے جمعہ پڑھنا ہوتا تو وہ کمپالا جاتا جہاں سلیمان مو آنجے صاحب کے گھر پر جمعہ پڑھا جاتا تھا۔مختلف دیہات میں احمدی کسی کے گھر میں یا کسی درخت کے نیچے نماز جمعہ ادا کرتے۔انہی دنوں میں ایک بار عیدی امین صاحب سعودی عرب گئے ہوئے تھے کہ ان کے پیچھے سے ایک ابتدائی احمدی شیخ زید صاحب کا انتقال ہو گیا۔مخالفین نے ان کی تدفین میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کیں۔عیدی امین صاحب ان کو جانتے تھے۔کسی طرح ان کو اطلاع ہو گئی۔اب ان کی شخصیت ایک اور رنگ میں ظاہر ہوئی۔انہوں نے ریڈیو پر براہ راست خطاب کیا اور مولویوں کو خوب برا بھلا کہا۔اور اپنا فون نمبر پڑھ کر کہا کہ جس احمدی کو کوئی مولوی تنگ کرے وہ مجھے فون کرے۔یہ حالات دیکھ کر مولویوں کا جوش کچھ ٹھنڈا ہوا۔عیدی امین صاحب کے دور کے آخری دنوں میں جب یوگینڈا کے مکرم محمد علی کا ئرے صاحب