سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 574 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 574

574 لیڈروں نے رحم کی اپیلیں کیں لیکن ان کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔اور پریس کو بتایا گیا کہ صدر پاکستان جنرل ضیاء نے کیس میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بھٹو صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کو سزائے موت دے دی جائے گی۔لیکن فیصلہ کیا گیا کہ ۳ اور ۴ را پریل کی درمیانی شب کو بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی جائے گی۔فیصلہ آنے کے بعد جیل کے حکام کا رویہ بھٹو صاحب سے بہت بدل گیا تھا اور وہ بار بار اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ وہ ان سے بے عزتی کا برتاؤ کر رہے ہیں۔جب انہیں بتایا گیا کہ آج ان کا آخری دن ہے اور اب انہیں پھانسی دے دی جائے گی اور وہ اب اپنی وصیت لکھ سکتے ہیں تو انہوں نے ڈیوٹی پر متعین کرنل رفیع صاحب سے پوچھا کہ رفیع یہ کیا کھیل ہے۔اس پر رفیع صاحب نے انہیں بتایا کہ جناب آج آخری حکم مل گیا ہے آج انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔رفیع صاحب ان لمحوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں۔"مسٹر بھٹو میں پہلی مرتبہ میں نے وحشت کے آثار دیکھے۔انہوں نے اونچی آواز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔بس ختم ؟ بس ختم۔میں نے جواب میں کہا جی جناب۔بھٹو صاحب کی آنکھیں وحشت اور اندرونی گھبراہٹ سے جیسے پھٹ گئیں ہوں۔ان کے چہرے پر پیلا ہٹ اور خشکی آگئی جو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔میں اس حالت کو صحیح بیان نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کس وقت ؟‘ اور پھر کہا کس وقت اور پھر کہا آج؟ میں نے اپنے ہاتھوں کی سات انگلیاں ان کے سامنے کیں۔۔۔۔انہوں نے کہا سات دن بعد۔میں نے ان کے نزدیک ہو کر سرگوشی میں بتایا۔جناب انہوں نے کہا آج رات سات گھنٹوں بعد۔میں نے اپنا سر ہلاتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔بھٹو صاحب جب پنڈی جیل میں لائے گئے اس وقت سے وہ مضبوط اور سخت چٹان بنے ہوئے تھے لیکن اس موقع پر وہ بالکل تحلیل ہوتے دکھائے دے رہے تھے۔۔۔“(۲۲) انہوں نے خود کلامی کے انداز میں کہا ” میرے وکلاء نے اس کیس کو خراب کیا ہے۔بیچی