سلسلہ احمدیہ — Page 569
569 جاری رکھنا ہے۔اس دن انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے اس حصہ پر شدید تنقید کی ، جس میں انہیں نام کا مسلمان کہا گیا تھا۔فیصلہ کے اس حصہ نے انہیں اتنا شدید صدمہ پہنچایا تھا کہ انہیں یہ حصہ زبانی یاد تھا۔جب اس دوران ان کے وکیل نے انہیں پیرا گراف کا نمبر بتانا چاہا تو انہوں نے بے صبری سے کہا کہ میں ان پیراگرافوں کو جانتا ہوں۔انہوں نے اس بیان کے آغاز پر مذہب کی تاریخ پر روشنی ڈالنا چاہا لیکن چیف جسٹس صاحب نے کہا یہ سب کچھ بہت دلچسپ ہے لیکن آپ براہ راست متعلقہ موضوع پر آجائیں۔(۱۳) انہوں نے اپنا بیان شروع کرتے ہوئے کہا: ایک اسلامی ملک میں ایک کلمہ گو کے بجز کے لئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے۔میرے خیال میں یہ اسلامی تمدن کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک مسلم صدر، ایک مسلم راہنما ایک وزیر اعظم جسے مسلمان قوم نے منتخب کیا ہو، ایک دن وہ اپنے آپ کو اس حیثیت میں پائے کہ وہ یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے۔یہ ایک ہراساں کر دینے والا ہی مسئلہ نہیں ہے۔بلکہ ایک کربناک معاملہ بھی ہے۔یورلارڈ شپس ! یہ مسئلہ کیسے کھڑا ہوا؟ آخر کس طرح؟ یہ مسئلہ اصطلاحا عوام کے انقلاب یا کسی تحریک کے نتیجے میں کھڑا نہیں کیا گیا جو اس کے خلاف چلائی گئی ہو کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہے۔یہ ایک آئیوری ٹاور سے آیا ہے۔اسے بطور ایک رائے کے ایک فرد نے دیا ہے۔اب یہ دوسری بات ہے کہ وہ خود خواہ کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہولیکن دراصل اسے اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی استحقاق نہیں ہے۔جو امور اس کی سماعت کے دائرے میں آتے ہیں ان میں یہ معاملہ قطعی طور پر شامل نہیں۔نہ ہی یہ ایسا موضوع ہے کہ جس پر وہ اپنا موقف بیان کر سکے۔کسی فرد کسی ادارے اور اس عدالتی بینچ کا یہ حق نہیں بنتا کہ وہ ایک ایسے معاملے پر اپنی رائے دے۔جس پر رائے دینے کا اسے کوئی جائز حق حاصل نہیں۔چونکہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی بیچ کا واسطہ نہیں ہے۔اس لئے یہاں معاشرے میں غلطیاں ہوتی ہیں۔سماج میں سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں۔اور ان کی سزا اسی دنیا میں ہی دی جاتی ہے۔جیسے چوری غنڈہ گردی زنا وغیرہ۔لیکن خدا کے خلاف بھی انسان جرم کرتے