سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 498 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 498

498 کہا کہ آپ نے کچھ جوابات دینے تھے۔اس پر حضور نے جواب دیا کہ میں دس منٹ میں کیا کر سکتا تھا اور اس وقت کتاب نہیں تھی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ انکشاف فرمایا کہ اب انہیں بتایا گیا ہے کہ جو حوالہ دیا گیا تھا اس کا Page غلط ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا : 66 ” Page غلط ہے تو میں کیسے ڈھونڈوں گا۔“ اس کے جواب میں بیٹی بختیار صاحب نے یہ دقیق نکتہ بیان فرمایا کہ بعض دفعہ Page ٹھیک ہوتا ہے کتاب غلط ہوتی ہے۔پتہ نہیں لگتا۔اس لئے بڑی مشکل ہوتی ہے۔۔۔“ اب تک حوالہ جات کے معاملہ میں جو غلطیاں ان سے ہو چکی تھیں اس پس منظر میں اس پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔پھر ان کی گفتگو کا سلسلہ کچھ بے ربط سا ہو گیا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آپ غدر ۱۸۵۷ء کی جنگ کو جہاد نہیں سمجھتے ، اس میں بہت سے بچوں کو اور عورتوں کو مارا گیا تھا لیکن ۱۹۴۷ء میں آزادی کے وقت بھی تو بہت سے بچوں اور عورتوں کو فسادات کے دوران مارا گیا تھا۔یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس منطق سے کیا نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔اور اب ان کے سوالات مفروضوں کی طرف نکل رہے تھے کہ اگر یہ ہو جائے تو کیا ہوگا اور اگر اس طرح ہو تو کیا ہو گا۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ اگر“ کے ساتھ بات نہ کریں۔اگر“ کے ساتھ تو قیامت تک مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔جو واقعہ ہے یا جو تعلیم ہے اس کے متعلق میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ایک مرحلہ پر سپیکر صاحب نے اٹارنی جنرل صاحب کو کہا کہ وہ اگلا سوال کریں۔گواہ سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے سوال دہرانا چاہا لیکن سپیکر صاحب نے اس کی اجازت نہیں دی۔بات آگے چلی تو اٹارنی جنرل صاحب نے چشمہ معرفت کا ایک حوالہ پڑھنے کی کوشش کی اور پھر خود ہی کہا کہ یہ حوالہ تو غلط ہے۔اب سپیکر صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں اٹارنی جنرل صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ باقی حوالہ جات گواہ کو دے دیں تا کہ کل اس کا جواب آجائے۔چنانچہ چاروناچار انہوں نے حوالوں کی فہرست لکھوانی شروع کی۔ابھی حوالہ کی عبارت نہیں پڑھی جا رہی تھی۔جب فہرست لکھوا دی گئی تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ پہلے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ جس مضمون کے متعلق حوالہ دیا گیا ہے اس صفحہ پر اس مضمون کا ذکر ہے کہ نہیں۔اس کے جواب میں اٹارنی جنرل