سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 467 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 467

467 seriousness of the issue would grant our request۔۲۰ اگست کو کارروائی تو شروع ہو گئی لیکن اس خط کا جواب ۲۳ / اگست کو موصول ہوا کہ یہ خط ایوان میں پڑھا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ پیشل کمیٹی پرانے طریقہ کار پر ہی کام کرتی رہے۔بہر حال یہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک کوشش تھی کہ اس کا رروائی میں کئے جانے والے سوالات کوئی سنجیدہ رنگ اختیار کریں مگر افسوس قومی اسمبلی نے اس کوشش کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے اور صمدانی ٹریبونل کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جاتی ہے ۲۰ / اگست کو دوبارہ اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی شروع ہوئی۔لیکن اس روز ایک اور اہم واقعہ ہوا جس پر سے اس وقت کی حکومت نے یا بعد میں آنے والی حکومتوں نے پردہ راز نہیں اُ ٹھایا۔اس روز صمدانی ٹریبونل نے اپنی رپورٹ پنجاب کی صوبائی حکومت کو پیش کر دی۔جسٹس صدانی نے یہ رپورٹ پنجاب کے وزیر اعلی محمد حنیف رامے صاحب کو ان کے دفتر میں پیش کی۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ جسٹس صمدانی نے بڑی محنت سے یہ رپورٹ مرتب کی ہے اور اب صوبائی حکومت اس پر غور کرے گی اور اسے اپنی سفارشات کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھیج دے گی۔(مشرق ۲۱ / اگست ۱۹۷۴ء صا) ۲۳ /اگست کو وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے صاحب نے یہ رپورٹ وزیر اعظم بھٹو صاحب کو پیش کر دی۔اور یہ بھی کہا کہ اس رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے گا اور کہا کہ وزیر اعظم اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی اس رپورٹ سے استفادہ کرے گی۔( مشرق ۲۴ /اگست ۱۹۷۴ ء ص۱) لیکن یہ امر قابل ذکر بھی ہے اور قابل افسوس بھی کہ اس رپورٹ کو کبھی شائع نہیں کیا گیا۔جس کی بظاہر وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس رپورٹ کے کم از کم بعض حصے ایسے تھے جن کو شائع کرنے کو وہ ہاتھ پسند نہیں کرتے تھے جو ملک میں یہ فسادات بر پا کرا رہے تھے۔جسٹس صدانی نے ، جنہوں نے ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ پر یہ تحقیقات کی تھیں، اس بات پر مایوسی کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔وہ اپنی