سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 456 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 456

456 خلیفہ المسیح الثانی نہیں بلکہ حضرت مرزا ناصر احمد قومی اسمبلی میں جماعت کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔پھر پروفیسر غفور صاحب نے کہا کہ جماعت احمد یہ مبائعین کی طرف سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور غیر مبائعین کی طرف سے ان کا وفد قومی اسمبلی پیش ہوئے تو انٹرویو میں اس سوال کے بارے میں پروفیسر غفور صاحب کے معین الفاظ یہ تھے : جی مرزا ناصر احمد صاحب اور لاہوری فرقہ کے لوگ بھی آئے تھے۔اور دونوں کے ساتھ گفتگو ہوئی تھی۔اور گفتگو اس طرح ہوئی تھی یحییٰ بختیار کے Through۔۔۔۔۔پھر یہ بات بھی کہی کہ مرزا غلام احمد کو جو نہیں مانے گاوہ مسلمان نہیں اور دونوں نے کہا کہ وہ جہنم میں جائے جائیں گے۔یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کو جہنم سے نکال دے۔لیکن وہ جہنمی ہیں۔یہ بات نہیں ہے کہ ہم کا فر کہہ رہے ہیں قادیانیوں کو۔اصل بات یہ ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کو کافر کہہ رہے ہیں۔ہر وہ آدمی جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں لاتا وہ ان کے نزدیک کافر ہے۔اور وہ جہنمی ہے اور یہی بات دونوں نے کہی۔“ پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ جماعت کے وفد نے تو غیر احمدیوں کو مسلمان کہا تھا اور اس بات کو اس وقت اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور پروفیسر غفور صاحب نے بالکل خلاف واقعہ جواب منسوب کیا ہے۔بلکہ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے جواب میں کچھ اور اضافہ جات بھی کئے ہیں یعنی دونوں وفود نے یہ کہا کہ ہم غیر احمد یوں کو نہ صرف غیر مسلم بلکہ جہنمی بھی سمجھتے ہیں۔یہ جواب نہ جماعت احمد یہ مبایعین کے وفد نے دیا تھا اور نہ ہی غیر مبایعین کے وفد نے یہ جواب دیا تھا۔اس کا پوری کا رروائی میں کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس جواب دیا گیا تھا۔نہ کسی کے جہنم میں جانے کا ذکر تھا اور نہ کسی کے جہنم سے باہر آنے کا ذکر تھا۔یہاں پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک بچے نے جب اپنی کوئی خواب گھر میں بیان کرنی ہوتی تھی تو یہ کہنے کی بجائے کہ میں نے یہ خواب دیکھی یہ کہتا تھا کہ میں نے ایک خواب سوچی۔تو ان ممبرانِ اسمبلی نے یہ جواب سنے نہیں تھے بلکہ سوچے تھے۔اس پر ہم نے ان کی خدمت میں پھر عرض کی کہ میں نے یہ کارروائی پڑھی ہے۔یہ سوال تو کئی دن چلا تھا۔اور اصل میں تو سوال کچھ اور تھا۔جب اتنا اختلاف ہے تو پھر کیا اس کارروائی کو ظاہر کر دینا