سلسلہ احمدیہ — Page 319
319 سے انٹرو یولیا تو انہوں نے اس کے بارے میں ایک بالکل مختلف واقعہ بتایا۔گو کہ ہمارے خیال میں یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا کہ سوالات اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے کئے جائیں گے لیکن ایک اور واقعہ ہوا جس کے بعد حکومت نے اس بات کا مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر مولوی حضرات کو براہ راست سوالات کرنے کا زیادہ موقع نہ ہی دیا جائے تو حکومت کے لئے بہتر ہوگا۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب کا کہنا تھا کہ کارروائی کے آغاز میں ہی مفتی محمود صاحب نے اٹھ کر براہ راست حضرت خلیفۃ امسیح الثالث" سے سوال کر لیا۔اور پوچھا کہ آپ نے اس لفظ کی یہ Interpretation کیوں کی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس لفظ کی اتنی Interpretations ہو چکی ہیں۔ہم نے اس کی یہ Interpretation لی ہے۔اور ہماری Interpretattion درست ہے۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب کہتے ہیں کہ اس پر مفتی محمود صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔کہتے ہیں کہ اسی روز میں نے بھٹو صاحب کو اپنے چیمبر سے فون کیا اور کہا کہ آپ کے لیڈر آف اپوزیشن کا یہ حال ہے کہ انہیں ایک سوال پر ہی صفر کر دیا گیا ہے۔اس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ پھر آپ کیا مشورہ دیتے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ جرح اٹارنی جنرل ہی کرے اور اس کے ساتھ پانچ سات افراد کی کمیٹی اعانت کے لئے بنا دی جائے۔ان کی گواہی سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا مولوی حضرات کو بے عزتی سے بچانے کے لئے کیا گیا تھا۔اور اسی انٹرویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے ہم سے بیان کیا کہ آدھے گھنٹے پہلے ہی سوال آجاتے تھے۔تو بسا اوقات بیچی بختیار صاحب سوال پڑھ کر اس کی نامعقولیت پر غصہ میں آ جاتے اور کہتے یہ کس۔۔۔۔۔(آگے ایک گالی ہے) نے بھیجا ہے اور اسے پھاڑ دیتے۔یاد رہے کہ یہ روایت بیان کرنے والے صاحب اسمبلی کے سپیکر تھے اور اس سپیشل کمیٹی کی صدارت کر رہے تھے۔وزیر اعظم ایک بار پھر بیرونی ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب راہبر کمیٹی اپنا کام ختم کر کے تجاویز سپیشل کمیٹی کو بھجوا رہی تھی تو انہی دنوں میں ۱۲ جولائی ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم نے مینگورہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اور اس تقریر میں انہوں نے ملک