سلسلہ احمدیہ — Page 21
21 متعلق توہین آمیز اور گندے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ اس کی کتاب کے جواب میں صحیح رد عمل یہ ہے کہ اس کا اور اس جیسی دوسری کتب کا جواب لکھا جائے۔اور ان کے اعتراضات کا جواب دینے والے اور ان کے جواب میں کتب لکھنے والے کے لئے آپ نے دس ضروری شرائط بیان فرمائیں۔اور آپ کی تحریر فرمودہ شرائط میں سے آٹھویں شرط یہ تھی کہ آٹھویں شرط تحریری یا تقریری مباحثات کیلئے مباحث یا مؤلف کے پاس ان کثیر التعداد کتابوں کا جمع ہونا ہے جو نہایت معتبر اور مسلم الصحت ہیں جن سے چالاک اور مفتری انسان کا منہ بند کیا جا تا اور اس کے افترا کی قلعی کھولی جاتی ہے۔“ اور اس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کتب خانے کا ذکر بھی فرمایا۔(۹) جماعت احمدیہ کے قیام کے ساتھ ایک عظیم قلمی اور علمی جہاد کا آغاز ہوا۔اور وسیع لائبریریاں اس عظیم کام کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔چنانچہ باوجود نہایت محدود مالی وسائل کے مختلف جماعتی اداروں نے اپنی اپنی لائبریریاں بنائیں۔قادیان میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز ، حضرت مصلح موعود کی قائم کردہ انجمن تفخیذ الاذہان ، مدرسہ احمدیہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج اور فضل عمر فاؤنڈیشن نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق لائبریریاں قائم کی تھیں اور خواتین کے لئے امتہائی لائبریری بھی کام کر رہی تھی۔اس کے علاوہ مختلف بزرگان نے بھی اپنی ذاتی لائبریریوں کی صورت میں کتابوں کا خزانہ جمع کیا۔خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ذاتی کتب خانے میں ہزاروں کتب موجود تھیں۔دسمبر ۱۹۱۶ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتب کا بیش بہا خزانہ صدر انجمن احمدیہ کے نام وقف کر دیا۔صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کتب خانہ، ریویو اور تشخیذ الاذہان کی لائبریریوں کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے کتب خانے سے مدغم کر کے صادق لائبریری کے نام سے ایک مرکزی لائبریری قائم کی اور حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب اس کے لائبریرین مقرر ہوئے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو کتابوں اور مطالعہ کا شوق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ورثہ میں ملا تھا۔جنوری ۱۹۳۲ء میں