سلسلہ احمدیہ — Page 290
290 پہلے محمد اشرف صاحب کے پیٹ میں چھرے مارے گئے جس سے انتڑیاں باہر آگئیں اور پھر اینٹوں سے سر کوٹا گیا۔جب دم توڑتے ہوئے محمد اشرف نے پانی مانگا تو کسی ظالم نے منہ میں ریت ڈال دی۔جب نوجوان بیٹے کو اس طرح قتل کر دیا گیا تو باپ کو کہا کہ تم اب بھی ایمان لے آؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی کمزور ایمان کا سمجھتے ہو۔اس پر ان کو بھی اسی طرح شہید کر دیا گیا۔پھر دو پہر کے وقت سعید احمد خان صاحب ، ان کے خسر چوہدری منظور احمد صاحب اور چوہدری منظور احمد صاحب کے بیٹے چوہدری محمود احمد صاحب کو شہید کر دیا گیا۔جب سعید احمد خان صاحب کو شہید کرنے کے لیے جلوس آیا تو ان کے ساتھ پولیس بھی تھی۔سعید احمد خان صاحب نے تھانیدار کو کہا کہ وہ بلوائیوں کو روکیں مگر سب بے سود جب وہ واپس جانے کے لیے مڑے تو تھانیدار نے اشارہ کیا اور جلوس آپ پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور ڈنڈوں سے آپ کو شہید کر دیا۔ان کے علاوہ قریشی احمد علی صاحب کو بھی سفاکانہ انداز میں شہید کر دیا گیا۔گوجرانوالہ میں بہت سے مواقع پر پولیس بلوائیوں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دے رہی تھی۔یکم جون کو مندرجہ بالا مقامات پر سارا دن احمدیوں کے خلاف جلوس نکلتے رہے،اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور لوگوں کو احمدیوں کی قتل و غارت پر اکسایا گیا۔پہلے کی طرح اس روز بھی مفسدین کی بڑی توجہ احمدیوں کی دوکانوں کی طرف رہی۔اس کے پیچھے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ لوٹ مار کر کے خود فائدہ اُٹھانے کا جذبہ بھی کارفرما تھا۔سانگلہ ہل ، وزیر آباد اور ڈسکہ میں احمدیوں کی فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی اور یہاں سے کثیر مقدار میں سامان لوٹا گیا۔اس کے علاوہ احمدیوں کے مکانوں پر اور ان کی مساجد پر حملے کئے گئے۔ایک طرف تو یکم جون کو احمدیوں کو بے دردی سے شہید کیا جارہا تھا اور ملک کے کئی مقامات پر احمدیوں کے گھروں، مساجد، دوکانوں اور فیکٹریوں کو لوٹا جا رہا تھا اور ان کو آگ لگائی جارہی تھی، اور دوسری طرف اسی روز قومی اسمبلی میں بھی سٹیشن کے واقعہ کی بازگشت سنائی دی۔لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ احمدیوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کچھ Credit لینے کے لیے بیتاب تھی۔چوہدری ظہور الہی جو مسلم لیگ سے اسمبلی کے ممبر تھے وہ ٹیشن کے واقعہ پر تحریک التوا پیش کرنا چاہتے تھے۔سپیکر کا اصرار تھا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھتا