سلسلہ احمدیہ — Page 158
158 ۹ راگست ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں جہاں یہ الزام لگایا کہ جماعت احمد یہ اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ہو چکا ہے، وہاں یہ دعوی بھی کیا کہ اب منکرین ختم نبوت اور نام نہاد محافظین ختم نبوت بھی ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں اور اب جماعت احمدیہ اور جمعیت العلماء اسلام بھی ایک صف میں کھڑے ہیں۔اسی مضمون میں یہ تجزیہ بھی شائع کیا گیا کہ بائیں بازو کی جماعتیں پانچ فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکیں گی (۱۲)۔اس جریدے میں یہ دعوی بھی کیا جا رہا تھا کہ اب تو خود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو بھی نا امید ہو چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھا سکے گی اور ان انتخابات میں دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے کوئی خطرہ بن سکے گی۔اور اب پیپلز پارٹی کے کارکن انتخابی عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔(۱۳) جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والی اور مذہبی جماعتوں کے نام سے موسوم ہونے والی پارٹیوں کی باتوں میں سے اگر نصف بھی صحیح تسلیم کر لی جائیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سب کو قادیانیوں نے خریدا ہوا تھا اور ان میں سے بہت سے مکہ کے مشرکین کی طرح قابل نفرت ہیں بلکہ بعض تو اس قابل ہیں کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ایک دوسرے کے متعلق تو ان کی یہ آراء تھیں لیکن اس کے باوجود اس بات پر لال پیلے ہو رہے تھے کہ احمدی انتخابی عمل میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ایک دوسرے کو ان الزامات سے نوازنے کے بعد چند برسوں کے بعد ان پارٹیوں نے ایک اتحاد بھی بنالیا اور اس میں یہ سب پارٹیاں مفتی محمود صاحب کی صدارت میں ایک انتخابی اتحاد کا حصہ بھی بن گئیں۔اور کچھ عرصہ قبل یہ الزام تراشی ہو رہی تھی کہ مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مالی مدد لے رہے ہیں۔بھٹو صاحب کا انتخابات سے قبل موقف اس قسم کے سوالات پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے بھی کیا جارہا تھا کہ کیا پیپلز پارٹی کا جماعت احمدیہ سے کوئی معاہدہ ہے یا کیا وہ اقتدار میں آکر قادیا نیوں کو غیر مسلم قرار دیں گے۔اور بھٹو صاحب محتاط انداز میں ان سوالات کا جواب دے رہے تھے۔جولائی ۱۹۷۰ء میں انتخابی مہم کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا پیپلز پارٹی عوام کے اس مطالبہ کی حمایت کرے گی کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا۔