سلسلہ احمدیہ — Page 148
148 اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب حضرت مصلح موعود کی بیماری میں اضافہ ہوا تو پھر یہ سلسلہ کچھ سالوں کے لیے رک گیا۔اب مخالفین یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ جماعت کے موجودہ امام کے بعد بغیر کسی کوشش کے ان کے مقاصد خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔لیکن جب خلافت ثالثہ کا مبارک آغاز ہوا تو وقت کے ساتھ ان کی خام خیالیوں کا تانا بانا ٹوٹنے لگا۔جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کر رہی تھی۔حضور کا دورہ افریقہ اور پھر مجلس نصرت جہاں کے آغاز نے ان مخالفین کے غیظ و غضب میں اضافہ کر دیا اور اب وہ پہلے سے بھی زیادہ زہر یلے وار کی تیاری کر رہے تھے۔۱۹۵۳ء کے ابتلاء کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب جماعت کے خلاف کوئی سازش تیار کی جاتی ہے تو بسا اوقات سامنے آنے والے چہرے اور ہوتے ہیں اور پس پردہ سازشیں تیار کرنے والے ہاتھ اور ہوتے ہیں۔۱۹۷۰ء کے الیکشن اور مولویوں کی ناکامی پہلے کی طرح اب بھی پاکستان کی نام نہاد مذہبی جماعتیں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک شورش بر پا کرنے کے لیے پر تول رہی تھیں۔یہ ۱۹۷۰ء کا سال تھا۔صدر ایوب خان کے دس سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہو چکا تھا اور ملک میں مارشل لاء لگا ہوا تھا اور پورے ملک میں انتخابات کی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتیں کہلانے والی سیاسی پارٹیوں کو یہ توقع تھی کہ ان کو اس الیکشن میں بہت بڑی کامیابی ملے گی، جس کے بعد ان کے اقتدار کا سورج طلوع ہوگا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ اس کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی کو روک دینا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کو اتنا نقصان پہنچا دو کہ اس کے اثر کی وجہ سے ان کی عالمی تبلیغ رک جائے۔پاکستان کے مستقبل کے متعلق ابھرتے ہوئے خدشات اور جماعت احمدیہ کا فیصلہ اُس وقت مشرقی پاکستان میں سیاسی صورت حال بڑی حد تک واضح تھی۔وہاں پر عوامی لیگ سیاسی منظر پر مکمل طور پر حاوی نظر آ رہی تھی۔اور یہ نظر آرہا تھا کہ صوبائی خود مختاری کے نام پر مشرقی پاکستان میں یہ جماعت اکثر سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔دوسری طرف