سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 89 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 89

89 ہیں۔اور کوئی بھی اپنی کاوشوں کا علم ایک دوشاخوں سے زیادہ میں جاری نہیں رکھ سکتا۔اس کے باوجود میں یہ محسوس کرتا ہوں اس رجحان کو روکنے کے لئے کچھ نہ کچھ کیا جاسکتا ہے اور اس کو روکنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ایک صحیح رویہ اپنانے سے زمین آسمان کا فرق پڑ سکتا ہے۔اور میں اس رجحان کی تلقین کر رہا ہوں کہ آپ اپنے پیشہ کے علاوہ بھی دوسرے علوم کے بارے میں بھی تجسس رکھیں۔یہ رویہ آپ کی مدد کرے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو مجموعی طور پر دیکھ سکیں۔اور اس کی خوبصورتی ، اس کی عظمت اور اس کی مقصدیت کو سمجھ سکیں۔(۱۶) ملکی اخبارات میں اس علمی لیکچر کی خبر شائع ہوئی۔ڈیلی ٹائمنز نے ۱۵ را پریل ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں اس سرخی کے ساتھ اس لیکچر کا خلاصہ شائع کیا Teach Religion To All- Faith Leader ۱۴ را پریل کو حضور نے بذریعہ ہوائی جہاز لیگوس سے کا نو جانا تھا۔کا نو میں ایک مضبوط جماعت قائم تھی اور یہاں پر مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کی نگرانی میں جماعت کا ایک میڈیکل سینٹر کامیابی کے ساتھ اہلِ کا نو کی طبی خدمت سرانجام دے رہا تھا۔اور حضور نے اس کلینک کی نئی عمارت کا افتتاح فرمانا تھا۔صبح دس بجے کا نو کے لئے روانگی تھی۔حضور اہل قافلہ کے ہمراہ ایئر پورٹ تشریف لے گئے۔مگر وہاں پر اعلان کیا گیا کہ چونکہ کا نو میں موسم خراب ہے اور وہاں پر Visibility بہت کم ہے اس لئے پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔اُسی کی خاطر گھر سے روانہ ہوئے تھے۔وہ جہاں چاہے لے جائے۔حضور کے اس دورہ سے قبل بھی مغربی افریقہ میں جماعت کے بہت سے تعلیمی اور طبی ادارے اہل افریقہ کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اور اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں میں غیر معمولی برکت دے رہا تھا۔لیکن اب حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس بات کی ضرورت محسوس فرمائی کہ اس کام میں جلد وسعت پیدا کی جائے۔اس بابرکت کام کا آغاز نایجیریا سے کیا گیا۔۱۵ اپریل ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفة أصبح الثالث" نے شام پانچ بجے فیڈرل پیلس ہوٹل میں مقامی جماعت کے نمائندگان کو چائے پر مد عوفر مایا۔اس موقع پر حضور نے نائیجیر یا جماعت کے دوستوں سے مشورہ طلب فرمایا کہ آئندہ پانچ سے سات سال کے عرصہ کے دوران ایک منصوبے کے تحت یہاں پر سکول اور میڈیکل سینٹر کھولے جائیں۔