سلسلہ احمدیہ — Page 88
88 دروازے کھلتے ہیں۔بہت سے سائنسدان اور موجد اس کی گواہی دیتے آئے ہیں۔مگر آپ اس بات کی نشاندہی کریں گے کہ بہت سے سائنسدان ایسے بھی ہیں جو خدا پر ایمان لانے یا دعا کرنے سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے سائنسدان بھی ہیں مگر انہیں بھی عظیم الشان غیب کے دروازے پر دستک دینی پڑتی ہے اور اس سے درخواست کرنی پڑتی ہے کہ ان پر کچھ بھید کھولے جائیں۔یہ عمل ایک ایمان لانے والے سائنسدان کی دعا سے بہت مختلف نہیں ہوتا۔ایمان لانے والے اور ایمان نہ لانے والے دونوں غیب سے مدد کے طلبگار ہوتے ہیں اور دونوں کو یہ مددملتی ہے۔جو ایمان نہیں لاتا وہ نہیں جانتا کہ وہ بھی دعا مانگ رہا ہے ، نہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کس سے دعا مانگ رہا ہے اور نہ یہ کہ کون اس کی دعا کو قبول کر رہا ہے۔جبکہ ایک ایمان لانے والا ایک لمبے تجربے کی بنیاد پر جانتا ہے کہ وہ دعا کر رہا ہے اور وہ اپنے رب سے دعا مانگ رہا ہے جو اس کے لئے علم اور دریافتوں کے دروازے کھولتا ہے۔اس طرح دونوں ہی دعا مانگتے ہیں لیکن ان دونوں کی دعا میں بہت فرق ہے اور میں اسی فرق کو مجھنے کی دعوت دے رہا ہوں۔فرق یہ ہے کہ اگر آپ علم اور اعتماد کے ساتھ دعا مانگیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یہ دعا قبول ہوگی۔حضور نے قرآن کریم کی دعوت فکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیں بار بار اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم زمین و آسمان پر غور کریں اور علم کی کنجی تجسس ہے۔حضور نے نائیجیریا کے طلبا کو نصیحت فرمائی کہ ایشیا اور افریقہ کے طلباء کو اپنی موجودہ پسماندگی سے بددل نہیں ہونا چاہئے۔دریافت کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔میرا پیغام یہ ہے کہ کمر ہمت کس کو ماضی کی دریافتوں سے ابھی بہت زیادہ تمہارے لئے باقی پڑا ہے۔حضور نے فرمایا کہ میری اس اپیل پر کہ دعا کے ذریعہ علم کا حصول کیا جائے سنجیدگی سے غور کریں۔زمین و آسمان کا رب اس کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے جو پورا ایمان نہیں رکھتا۔وہ آپ کی طرف متوجہ ہو گا اور آپ کی دعاؤں کا جواب دے گا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپ ایک اور کام بھی کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ علم کے حصول کے لئے اپنے سفر کو صرف اپنے مخصوص میدان تک محدود رکھنے کے رجحان سے بچیں۔یہ رجحان جدید علم اور تعلیم کا خاصہ بن چکا ہے۔ایک مخصوص علم میں مہارت پیدا کرنا ناگزیر بھی ہے اور فائدہ مند بھی علم کی ہر شاخ میں ایسی بے انتہا باتیں ہیں جن کا علم ہونا چاہئے اور مسلسل علم کی نئی شاخیں پیدا ہوتی چلی جارہی