سلسلہ احمدیہ — Page 86
86 ختم ہو چکی ہے اور نائیجیر یا کو اللہ تعالیٰ نے امن کی نعمت سے نوازا ہے آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ کسی قسم کی تختی پیدا نہ ہو اور محبت اور ملاطفت سے جنوبی حصہ کے لوگوں کے دل بھی فتح کریں کیونکہ اصل فتح یہی ہے۔طاقت کے استعمال سے لوگ تباہ تو ہو سکتے ہیں جیتے نہیں جا سکتے۔ایٹم بم سے ایک دل بھی بدلا نہیں جاسکتا۔صدر مملکت نائیجیریا نے جواب دیا کہ ہماری بھی یہی کوشش ہے۔نائیجریا میں مذہبی تنظیموں کے برادرانہ تعلقات ہیں ورنہ اس سلسلے میں ملک کے باہر جو پروپیگنڈا مذہبی جذبات کو بھڑ کانے کے لئے کیا جا رہا تھا، اگر لوگ اس کی طرف توجہ کر لیتے اور اس سے متاثر ہوتے تو ہماری مشکلات بہت بڑھ جاتیں۔صدر یعقو بو گوون نے نائیجیریا میں جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ جماعت نے نائیجیریا کی اخلاقی روحانی، جسمانی اور ذہنی ترقی میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔روحانی خدمات کے علاوہ آپ نے تعلیمی میدان میں بھی جو کارنامے سرانجام دیئے ہیں وہ قابل تحسین اور ستائش ہیں۔نائیجیریا کے عوام کے بہبود اور عزائم کی تکمیل کے سلسلے میں آپ نے پوری شمولیت کی ہے۔صدر صاحب نے حضور سے آئندہ پروگرام کے متعلق دریافت کیا۔حضور نے فرمایا کہ آج ابادان جانا ہے اور وہاں پر Intellectuals اور یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرنا ہے۔جب صدر نائیجیریا نے جماعت کی خدمات کا ذکر کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ اپنے محدود ذرائع کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے یہ حقیر سی خدمت کی ہے۔اس پر صدر یعقو بو گوون نے کہا کہ لیکن یہ خدمت بے غرض خدمت ہے اور ہمارے دل میں اس کا بہت احترام ہے۔اگر کوئی ملک کروڑوں پونڈ بھی ہم پر خرچ کرتا اور اس میں کوئی ذاتی غرض پنہاں ہوتی تو ہر گز ہمارے دلوں میں یہ احترام نہ ہوتا۔آخر میں صدر یعقو بو گوون نے حضور سے کہا کہ آپ ہمارے ملک کے لئے دعا کریں کہ ہماری مشکلیں آسان ہو جائیں۔ہم اور ہمارے بعد آنے والے حاکم ہمیشہ ملک اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ر ہیں اور درخواست کی کہ اسی وقت با قاعدہ دعا کروا دیں۔صدر نے عیسائی طرز پر گھٹنے ٹیک کر دعا کرنی چاہی تو حضور نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا کہ بیٹھے ہوئے دعا کرتے ہیں۔حضور نے لمبی دعا کروائی۔رخصت ہوتے ہوئے صدر حضور سے بغل گیر ہوئے اور حضور نے ان کی گردن پر بوسہ دیا اور صدر نائیجیریا کو پاکستانی دستکاری کا ایک نمونے کا تحفہ دیا۔(۱۵۴۰۳) اس ملاقات کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث اور حضرت بیگم صاحبہ کے ہمراہ ابادان کے لئے