سلسلہ احمدیہ — Page 697
697 خوشی سے استقبال کریں گے۔اس سرکلر کا یہ اثر ہوا کہ کثرت سے سکولوں، کالجوں اور چرچوں کی طرف سے پیغام ملنے لگے کہ ہمارے پاس آکر تقریر کر و یا فلاں تاریخ کو ہمارا یہ گروپ آپ کے پاس آئے گا۔ہر عمر کے لوگوں کے سوالات مختلف ہوتے لیکن ایک سوال بڑی اور چھوٹی عمر کے لوگوں کی طرف سے یکساں کیا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ اسلام میں سو رکھانا کیوں حرام ہے؟ یہ سوال ایک بچے نے کیا جو اپنے پادری استاد کے ساتھ طلباء کے ایک گروہ میں آیا ہوا تھا تو مکرم انوری صاحب نے جواب دیا کہ مسلمان تو سو ر اس لئے نہیں کھاتے کیونکہ قرآنِ کریم میں اس کو کھانے سے منع کیا گیا ہے لیکن یہ سوال آپ کو اپنے ٹیچر سے کرنا چاہئے کہ عیسائی سؤر کیوں کھاتے ہیں جبکہ بائیل میں اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔بائیل کی کتاب احبار کے باب گیارہ میں لکھا ہے ” اور سو رکو کیونکہ اس کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا۔وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔تم ان کا گوشت نہ کھانا اور ان کی لاشوں کو نہ چھونا۔وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔“ یہ سننا تھا کہ سارے بچے اپنے پادری ٹیچر کا منہ دیکھنے لگے اور وہ یوں خاموش کھڑے تھے جیسے اچانک کسی صدمہ سے دو چار ہو گئے ہوں۔اس کی خاموشی سے بچے سمجھ گئے کہ ان کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔اسی طرح ایک مرتبہ ایک چرچ سے وابستہ بڑی عمر کے لوگوں کا ایک گروہ اپنے پادری کے ہمراہ مسجد میں آیا اور ایک شخص نے یہی سوال کر دیا کہ قرآن مجید میں سو ر کھانا حرام کیوں ہے؟ اس پر مولانا انوری صاحب نے کہا کہ قرآن مجید نے تو سو رکوکھانا حرام نہیں قرار دیا۔سو رکھانا تو بائیبل نے حرام قرار دیا ہے۔قرآن نے تو بائیبل کے اس حکم کی توثیق کی ہے۔یہ سننا تھا کہ حاضرین پر سناٹا چھا گیا۔اس خاموشی کو خود انوری صاحب نے توڑا اور کہا کہ دیکھیں دو بڑی مذہبی کتب نے سور کو حرام قرار دیا ہے اس کی ضرور کوئی وجہ ہوگی۔ہمیں اس کی وجہ مل کر تلاش کرنی ہو گی۔جہاں تک اہلِ اسلام کا تعلق ہے، ہماری تحقیق ہے کہ اس جانور میں کچھ ایسی اخلاقی حالتیں ہیں جو سخت معیوب ہیں اور خوراک کا انسان کی اخلاقی حالت پر اثر پڑتا ہے اس لئے اس کا کھانا حرام ہے تا کہ وہ اخلاقی کمزوریاں انسان میں پیدا نہ ہو جائیں۔اسی طرح شہر سے باہر سے بھی لیکچرز کی دعوت ملتی تھی۔چنانچہ ایک ایسے ہی لیکچر پر ایک قصبہ اوفن برگ کے چرچ میں بھی مدعو کیا گیا۔جب لیکچر کے دوران انوری صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد