سلسلہ احمدیہ — Page 669
669 ۱۹۶۵ء میں ایبری (Ibiri) کے مقام پر نئی جماعت قائم ہوئی۔تنزانیہ میں موروگورو کے مقام پر مسجد اور دار التبلیغ کی بنیاد رکھی گئی۔مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب نے ۱۹۶۷ء میں تعمیر کے کام کا آغاز کیا۔۱۹۶۸ء میں مشن ہاؤس اور پھر اگست ۱۹۷۰ ء میں مسجد کی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔۱۹۶۶ء میں تنزانیہ میں غیر احمدی مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرف سے جماعت کی شدید مخالفت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ان کی طرف سے جماعت کے خلاف کثیر تعداد میں لٹریچر شائع کیا گیا اور جماعت کے مشن کی طرف سے اس کا جواب شائع کیا گیا۔آخر مخالفت کا زور ٹوٹ گیا۔۱۹۶۶ء کے دوران جماعت کی طرف سے بکو با موانزہ اور انیچی میں تبلیغی مراکز قائم کئے گئے اور ان میں مبلغین کو مقرر کیا گیا۔اس ملک کی جماعت کا پہلا جلسہ جسے اس وقت سالانہ کا نفرنس کہا جا تا تھا ۱۹۶۱ء میں دارالسلام کے مقام پر ہوا تھا۔لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو گیا۔مکرم جمیل الرحمن صاحب رفیق نے ۱۹۶۸ء میں امیر جماعت کے طور پر خدمات شروع کیں تو اسی سال دار السلام کے مقام پر جلسہ کا دوبارہ آغاز کرایا۔اس کے بعد ہر سال مختلف مقامات یہ جلسہ منعقد ہوتا رہا۔امبیا (Mbeya) میں ۱۹۷۲ء میں ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۷۲ء میں مکرم مولوی محمد منور صاحب مرکز واپس تشریف لائے۔آپ کے بعد کچھ ماہ کے لئے مکرم عبد الباسط صاحب نے مبلغ انچارج کے فرائض ادا کئے اور پھر مکرم چوہدری عنایت اللہ صاحب نے تنزانیہ کے مبلغ انچارج کی حیثیت سے فرائض ادا کرنے شروع کئے۔۱۹۷۲ء میں دارلحکومت دار السلام کے علاوہ بکوبا، موروگورو، ٹمبورہ ، چوہے اور اروشا کے مقامات پر مبلغین اور معلمین کام کر رہے تھے۔۱۹۷۵ء میں ایک نیا مشن سونگیا (Songea) کے مقام پر شروع کیا گیا اور یہاں پر ملک رفیق احمد صاحب کو مبلغ مقرر کیا گیا۔یہ ضلع ملاوی اور موزنبیق دونوں ممالک سے ملتا ہے۔ملک رفیق صاحب نے جانفشانی سے وہاں پر کام شروع کیا۔انفرادی ملاقاتیں شروع کیں اور عیسائیوں سے مباحثات کئے۔احباب جماعت کے وفود کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں تبلیغی دورے کئے۔لٹریچر فروخت اور تقسیم کیا گیا۔جلد ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں پر مخلصین کی ایک جماعت قائم ہوگئی۔شہر کی حدود میں ایک قطعہ زمین حاصل کئے گئے جس پر اب مشن ہاؤس اور مسجد تعمیر ہو چکے ہیں۔۱۹۷۵ء میں تنزانیہ کے مشنری انچارج مکرم عبدالکریم شر ما صاحب کی تقرری نیروبی میں کر دی گئی اور