سلسلہ احمدیہ — Page 668
668 کا نفرنس منعقد کی گئی تھی۔اس موقع پر برٹش کونسل آف چرچز نے جماعت احمدیہ کو ایک مذاکرہ کی دعوت دی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس دعوت کو قبول فرماتے ہوئے بذریعہ خط انہیں اس بات کی اطلاع بھی کر دی تھی۔لیکن اس کے بعد چرچ نے مکمل خاموشی اختیار کر لی تھی۔مارچ ۱۹۷۹ء میں Anglican Church کے سربراہ ڈونالڈ کوجن( Donald Coggan) لائبیریا کے دورہ پر آئے تو مکرم عطاء الکریم صاحب نے ان سے ملاقات کر کے ان سے تحریری درخواست پیش کی کہ وہ اس مذاکرہ کے انعقاد کے سلسلہ میں ضروری کارروائی کریں گے۔اس بات کی لائبیریا کے اخبارات میں خوب تشہیر ہوئی۔وہاں کے ایک اخبار Scope نے سرخی لگائی Arch Bishop Gets Unusual Present ۱۹۸۰ء میں مکرم عطاء الکریم صاحب مرکز سلسلہ واپس تشریف لائے اور آپ کی جگہ مکرم عبدالشکور صاحب امیر و مشنری انچارج مقرر ہوئے۔اکتوبر ۱۹۸۱ ء میں دولائبیرین دوست مشنری ٹرینگ کالج غانا سے تعلیم حاصل کر کے واپس وطن پہنچے۔یہ دو دوست مکرم علی ساما صاحب اور مکرم محمود بن بشیر صاحب تھے۔۱۹۸۱ء میں اس ملک میں ہفتہ وار پبلک لیکچرز کا آغاز کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے لائبیریا میں بھی ایک ہسپتال کے قیام کی منظوری عطا فرمائی تھی۔دو ڈاکٹر اس ملک میں پہنچے بھی مگر رجسٹریشن نہ ہو سکنے کے باعث اور کلینک کی منظوری نہ ملنے کے باعث یہاں پر اس کام کا آغا ز خلافت ثالثہ میں نہ ہو سکا۔(۱) ریکارڈ وکالت تبشیر تنزانیہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ مشرقی افریقہ کا مشن تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔موجودہ تنزانیہ اس وقت ٹانگا نیکا کہلاتا تھا۔اس وقت ٹانگا ریجن میں مقامی مبلغ مکرم ابو طالب کام کر رہے تھے۔۱۹۶۶ء میں یہاں پر ایک مسجد اور دار التبلیغ کی بنیاد رکھی گئی۔مشنری انچارج مکرم چوہدری عنایت اللہ احمدی صاحب نے اس کا سنگ بنیا درکھا۔اپریل ۱۹۶۶ء میں اس مسجد اور دار التبلیغ کی تعمیر مکمل ہوگئی۔