سلسلہ احمدیہ — Page 641
641 خلافت ثالثہ کے دوران بعض ممالک میں ہونے والی تبلیغی سرگرمیاں خلافت ثالثہ کے دوران دنیا بھر میں تبلیغ اور تربیت کا کام بھر پور انداز میں جاری تھا۔ہم ان میں سے بعض ممالک کا جائزہ پہلے لے چکے ہیں۔بعض ممالک میں ہونے والی تبلیغی سرگرمیوں کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔سیرالیون حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے بعد ۱۹۶۶ء میں جماعت احمد یہ سیرالیون کی جو پہلی مجلس مشاورت منعقد ہوئی اس میں ملک بھر سے ۱۵۰ جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی وفات پر تعزیت اور تجدید بیعت کی قرادادیں منظور کی گئیں۔(۶) جماعت احمد یہ سیرالیون کا ۱۹۶۶ ء کا جلسہ ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔یہ خلافت ثالثہ کے دور کا پہلا جلسہ تھا۔اس جلسہ سے تقریر کرتے ہوئے ایک غیر از جماعت مہمان نے کہا کہ مجھے اب تک وہ دن خوب یاد ہے جب سب سے پہلے احمدی مبلغ سیرالیون میں آئے تھے انہوں نے بہت تکالیف اُٹھا کر اپنے کام کو جاری رکھا جس کے نتیجہ میں آج تمام ملک میں احمدیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس جلسہ میں گیمبیا سے بھی ایک وفد نے شرکت کی (۱) تبلیغی مساعی کے ساتھ سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی تعلیمی خدمات بھی آگے بڑھ رہی تھیں۔چند کمروں میں شروع ہونے والا احمد یہ مسلم سکینڈری سکول بو (80) اب ملک کا ایک معروف تعلیمی ادارہ بن چکا تھا۔۱۹۶۳ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب اس کے پرنسپل مقرر ہوئے اور اس کے بعد اس سکول میں مہیا کی جانے والی سہولیات میں اضافہ ہوتا رہا (۲)۔اسی سال حکومت کی طرف سے جماعت کو بو آجے بو میں ایک سکول کھولنے کی اجازت دی گئی۔اس مقام پر سکول کھولنے کے راستے میں بہت وقتیں پیش آئیں تھیں۔کیونکہ وہاں پر عیسائی مشنری حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہاں پر احمدیوں کی بجائے عیسائی مشنریوں کو سکول کھولنے کی اجازت دی جائے۔اور ۱۹۶۶ ء کے دوران ہی فریج گنی کی سرحد کے قریب ایک پرائمری سکول کھولا گیا۔سیرالیون میں مبلغین کی تعلیم کے لئے ہر سال ریفر شر کورس کا