سلسلہ احمدیہ — Page 627
627 Frankfurter Rundschau کی اس سرخی سے ہوسکتا ہے جو اس نے کانفرنس کی خبر کے اوپر لگائی اور وہ سرخی تھی، " محبت کا سفیر۔اسی طرح ایک اور اخبار نے صفحہ اول پر حضور کی تصویر کے نیچے یہ عبارت درج کی محبت کا سمندر۔جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا ناصر احمد۔احباب جماعت کو اپنے اموال کی حفاظت کی نصیحت اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا (فرقان : ۶۸ ) - یعنی ” اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ اس کے درمیان اعتدال ہوتا ہے۔اور سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد خداوندی ہے کہ اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِيْنِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (بنی اسرائیل : ۲۸) یعنی یقینا فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ فضول خرچی کے نتیجہ میں آدمی نہ صرف خود تباہ ہوتا ہے بلکہ جس قوم میں یہ بدعت موجود ہو وہ قوم بھی طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔فرینکفرٹ میں اپنے قیام کے دوران حضور نے وہاں پر ان احمدیوں سے ملاقات کی جو پاکستان سے نقل مکانی کر کے یہاں پر کام کر رہے تھے۔حضور نے ان سے ملاقات کر کے ان کی تعلیمی استعدادوں کا جائزہ لیا اور ان سے سوال کیا کہ وہ کتنے عرصہ سے مغربی جرمنی میں قیام پذیر ہیں۔اور اس امر کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حضور نے ان سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اپنے محنت سے کمائے ہوئے مال کی حفاظت کرنے اور اس سے اپنا مستقبل بنانے اور اس طرح دنیا کے نئے علاقوں میں قرآنِ کریم کا پیغام پہنچانے کی تلقین فرمائی۔حضور نے فرمایا میں جب پہلے یہاں آیا تھا تو میں نے آپ کو وارنگ دی تھی کہ آپ اپنے پیسے کی حفاظت کریں۔اسلام حلال ذرائع سے کمائے ہوئے مال کو خرچ کرنے سے منع نہیں کرتا ، وہ نا واجب خرچ سے منع کرتا ہے۔جن حالات میں سے آپ لوگ گزر رہے ہیں۔ان کے پیش نظر آپ لوگوں کے لئے اپنے کمائے ہوئے مال کی حفاظت بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔حضور نے انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ وہ سرمایہ جمع کر کے دنیا کے بعض دوسرے ملکوں میں جا کر وہاں تجارت کر کے یا بہت سستے داموں میں ملنے والی زرعی زمینیں خرید کر اور زرعی فارم قائم کر کے اپنا