سلسلہ احمدیہ — Page 626
626 دورہ یورپ، افریقہ شمالی امریکہ۔۱۹۸۰ء ۱۹۸۰ءکا سال جماعتی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس سال حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے بیرونی ممالک کا آخری دورہ فرمایا اور سپین کی مسجد کا سنگ بنیا درکھا گیا۔یہ دورہ تین بر اعظموں اور تیرہ ممالک پر محیط تھا۔اس کے دوران حضور نے مغربی جرمنی ، سوئٹزر لینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، سپین، نائیجیریا، غانا، کینیڈا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور انگلستان کا دورہ فرمایا۔حضور ۲۹ / جون ۱۹۸۰ء کور بوہ سے روانہ ہوئے۔اس دورہ کا آغاز مغربی جرمنی سے ہوا اور حضور نے اس ملک میں تبلیغی مساعی کے کام کا جائزہ لیا اور راہنمائی فرمائی اور احباب جماعت نے حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔حضور کا قیام فرینکفرٹ میں تھا۔یہاں پر حضور نے ایک پر لیس کا نفرنس میں بھی شرکت فرمائی۔اس کے دوران حضور نے فرمایا کہ قرآنی تعلیم پر عمل پیرا ہونے سے بین الاقوامی محبت اور اخوت کی فضا قائم ہوسکتی ہے اور اس ضمن میں متعدد قرآنی آیات پیش کیں۔اس پر ایک صحافی نے کہا کہ ایسی ہی اعلیٰ تعلیم عیسائیت بھی پیش کرتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے محبت اور باہمی خیر خواہی کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس میں شک نہیں کہ ہر مذہب نے اخلاق پر زور دیا ہے۔میں جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام نے بین الاقوامی سطح پر امن و آشتی اور انسانی حقوق کی جو تعلیم دی ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دی۔حضور نے بائیبل کا جرمن ترجمہ اس صحافی کو دیتے ہوئے کہا کہ باہمی محبت و اخوت ،شرف انسانی کے قیام اور انسانی حقوق کے احترام کے متعلق جو متعدد آیات قرآنی میں نے پڑھ کر سنائی ہیں اگر ان کا چوتھا حصہ بھی آپ بائیبل سے نکال کر دکھا دیں تو میں آپ کی بات مان لوں گا۔صحافی مذکور نے ایسی کوئی آیت نکالنے سے معذوری ظاہر کی۔اس کے بعد حضور نے بائیبل کی بعض آیات پڑھ کر سنا ئیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بائیل کی ہدایت تمام بنی نوع انسان کے لئے نہیں تھی اور یہ کہ وہ انسان انسان میں تفریق کرتی ہے۔اس کا نفرنس میں متعدد اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے نمایندے شریک ہوئے تھے اور یہ تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور شرکاء کیا تاثر لے کر لوٹے اس کا اندازہ وہاں کے ایک با اثر اخبار