سلسلہ احمدیہ — Page 624
624 رہتے تھے۔چنانچہ اس خطاب میں فرمایا:۔ایک چیز جو میں نے اب شروع کی تھی کہ میرا آپ کے ساتھ ملاپ زیادہ رہنا چاہئے۔اس کے لئے میں نے یہ سوچا ہے (میاں طاہر احمد صاحب نوٹ کریں ) کہ سال میں چار دفعہ میں آپ کو چائے کی دعوت پر بلاؤں گا۔۔۔۔۔اور ہفتے میں کون سا دن Suit کرے گا۔مجھے جمعہ نہیں Suit کرتا۔جمعہ میرا پرائیویٹ دن ہے۔اس میں میں تلاوت زیادہ کرتا ہوں۔اس میں مجھے دعائیں بڑی کرنی پڑتی ہیں۔سب سے زیادہ بوجھ کا کام اس دن ہوتا ہے جو چھٹی کا دن سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ جمعہ کا خطبہ کوئی مذاق تو نہیں نا۔مولوی صاحب کی طرح میں نے گالیاں تو نہیں دے دینی کھڑے ہو کے۔میں تو کچھ یعنی قرآن میں سے کچھ نکال کر پیش کرنا ہے۔اور میں نہیں نکال سکتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھائے۔پھر بڑی دعا کرتا ہوں۔بڑے نشان دیکھتا ہوں خدا تعالیٰ کے اس میدان میں۔“ یہاں حضور نے ان غیر احمدی مولوی صاحب کا ذکر فرمایا تھا جن کو حکومت نے ریلوے سٹیشن کی زمین میں مسجد بنا کر امام مقرر کیا تھا۔معلوم نہیں کہ نماز پڑھاتے تھے کہ نہیں لیکن وہ لاؤڈ سپیکر پر احمدیوں کو گالیاں دینے پر ہر وقت ضرور مستعد رہتے تھے۔اور جب سونے کا وقت ہوتا تو بعض اوقات ٹیپ ریکارڈر کولا وڈسپیکر کے سامنے رکھ کر اہل ربوہ کی نیندیں حرام کرنے کا جہاد سرانجام دیتے۔بہت کم دوسرے مولویوں نے مسجد کو گالی گلوچ کے لئے اس طرح استعمال کیا ہو گا۔) باقی شہروں کی طرح کراچی کے احمدی طلبہ نے بھی احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی تنظیم کا کام شروع کیا۔اور اپنا ایک مجلہ الناصر کے نام سے جاری کیا۔اور ان کے اجلاسات بھی منعقد ہونے شروع ہوئے۔مکرم الطاف قدیر صاحب نے ان کاوشوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہ اس تنظیم کا آغاز تھا بعد میں رفتہ رفتہ پاکستان کے باہر بھی احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی تنظیم کے کام کا آغاز ہوا۔